نزوؔ ل کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہوجائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے بعد اور ان کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا ضرور ہوگا کہ اس وقت کے اہل کتاب سب مسلمان ہوجائیں گے اور ابو مالک کے کلام کا بھی یہی مطلب ہے ذرا غور سے ملاحظہ فرمایئے۔ قولہ آپ تسلیم کرچکے ہیں الی قولہ تو پھر اس لفظ کے لانے سے فائدہ کیا ہے۔اقول حضرت من اس مقام پر بھی آپ نے میرے مطلب پر مطلق غور نہیں کیا اسلئے میں پھر اس کی تقریر کا اعادہ کرتا ہوں امید ہے کہ اگر آپ توجہ فرمائیں گے تو سمجھ میں آجائے گا اور تسلیم بھی کر لیجئے گا۔ حاصل میری کلام کا یہ ہے کہ آپ کے اعتراض کا جواب بدوطور ہے اول یہ کہ آیت سے یہ نہیں ثابت ہوتا ہے کہ مسیح کے نزول کے بعد فوراً سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے بلکہ یہ کہ بعد نزول مسیحؑ اور قبل موت مسیح ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ میں سب اہل کتاب ایمان لے آویں گے۔ پس احادیث صحیحہ اس کی منافی نہ ہوئیں کیونکہ جو کفار مسیح کے دم سے مرنے والے ہوں گے وہ پہلے مریں گے باقی ماندہ سب ایمان لے آویں گے۔ دوم یہ کہ مراد ایمان سے یقین ہو نہ ایمان شرعی۔ اس تقدیر پر بھی احادیث صحیحہ آیت کے اس معنی کی معارض نہیں ٹھہرتی ہیں الحاصل مقصود دفع تعارض ہے جو آپ نے آیت کے معنے اور احادیث صحیحہ میں بیان فرمایا ہے آپ معلوم نہیں کہ کہاں سے کہاں چلے گئے غور کر کے جواب لکھا کیجئے۔ اب یہ انصاف سے غور کر کے فرمایئے کہ آپ کا یہ فرمانا کہ انْ کا لفظ تو ایسا کامل حصر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جاوے تو یہ لفظ بے کار اور غیر مؤثر ٹھہرتا ہے کیسا بے محل ہے۔ کیونکہ جس زمانہ کے لئے یہ حصر کیا گیا ہے اس کی نسبت پورا حصر ہے اور ایسا ہی یہ فرمانا کہ اول تو آپ نے اِنْ کے لفظ سے زمانہ قبل از نزول کو باہر کیا۔ پھر اب زمانہ بعد از نزول میں بھی اس کا پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا تو پھر اس لفظ کے لانے سے فائدہ ہی کیا تھا محض بے موقع ہے کیونکہ خاکسار نے از خود زمانہ قبل از نزول کو باہر نہیں رکھا اور نہ زمانہ بعد از نزول میں پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا بلکہ یہ تو مقتضٰی نون ثقیلہ و لفظ بعد موتہٖکا ہے جو کلام الٰہی میں واقع ہوا ہے اور ایسا ہی آپ کا یہ فرمانا کہ اب اگر ان کفار کو جو کفر پر مر گئے مومن ٹھہراتے ہیں یا اس جگہ ایمان سے مراد یقین رکھتے ہیں تو اس دعوے پر آپ کے پاس دلیل کیا ہے۔ محض بے ربط ہے۔ کیونکہ خاکسار اس مقام پر نہ مدعی ان کے ایمان کا ہے اور نہ مدعی اس امر کا ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہے۔مقصود اس مقام پر صرف رفع تناقض ہے جو آپ نے درمیان آیت و احادیث کے سمجھا ہے اس امر