اور ؔ صارف یہاں کوئی پایا نہیں جاتا ہے۔ آپ نے اس کا کچھ جواب نہ دیا۔قولہ اور فہم ابوہریرہ حجت کے لائق نہیں۔ اقولفہم ابوہریرہ کو میں حجت نہیں کہتا ہوں استدلال تو لفظ ابن مریم سے ہے جو حدیث میں واقع ہے۔ قولہ یہ حدیث مرسل ہے۔ پھر کیونکر قطعیۃ الدلالت ہوگی۔اقول اس حدیث کو قطعیۃ الدلالت نہیں کہا گیا ہے صرف تائید کیلئے لائی گئی ہے۔قولہ یہ بخاری کی حدیث صحیح مرفوع متصل سے جو حضرت مسیح کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور نیز قرآن کی تعلیم سے مخالف ہے۔
اقول۔ آپ وہ حدیث صحیح مرفوع متصل بیان فرمایئے تاکہ اس میں نظر کی جاوے اور مخالفت تعلیم قرآن غیر مسلم ہے ومن یدعی فعلیہ البیان واخر دعوٰینا ان الحمد للّٰہ رب العلمین والصلٰوۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد والہ واصحابہ اجمعین۔
محمد بشیر عفی عنہ تاریخ ۲۵؍اکتوبر ۱۸۹۱ء
نمبر۲ حضرت اقدس مرزا صاحب
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آمین۔
اما بعد واضح ہو کہ حضرت مولوی محمد بشیر صاحب نے اپنے جواب الجواب میں باوجود اس کے کہ اپنے ذمہ بار ثبوت حیات مسیح علیہ السلام قبول فرماچکے تھے۔ پھر اس عاجز کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ وفات ابن مریم علیہ السلام کا بار ثبوت آپ کے ذمہ ہے۔ کیونکہ آپ کی طرف سے یہ مستقل دعویٰ ہے کہ حضرت مسیح وفات پاچکے اور اصل امر آپ کے الہام میں یہی ٹھہرایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے۔ اور اگر آپ کے ذمہ بار ثبوت نہیں تھا تو یہ عبث کام آپ نے کیوں کیا کہ توضیح مرام وازالہ اوہام میں دلائل وفات مسیح بہ بسط تمام بیان کئے۔
میں کہتا ہوں کہ اس بات کو ادنیٰ استعداد کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ بار ثبوت کسی امر متنازعہ فیہ کی نسبت اس فریق پر ہوا کرتا ہے کہ جو ایک امر کا کسی طور سے ایک مقام میں اقرار