سبؔ میں مراد صرف معنے مستقبل ہیں نہ حال اور نہ استمرار۔ قولہ اور آپ کو معلوم ہے کہ تمام مفسرین قدیم و جدید جن میں عرب کے رہنے والے بھی داخل ہیں لیومنن کے لفظ کے حال کے معنے بھی کرتے ہیں۔ اقول۔ ان لوگوں کے کلام میں کہیں تصریح حال کی نہیں ہے محتمل ہے کہ ان کی مراد استقبال ہو جیسا کہ آپ خود اوپر لکھ چکے ہیں۔ کیا استقبال کے طور پر دوسرے معنے بھی نہیں ہوسکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے۔ اگر کوئی شبہ کرے کہ پھر اس دوسرے معنے کا رد قاعدہ مقررہ نحاۃکے موافق کیسے ہو گا۔ تو جواب یہ ہے کہ بے شک اس صورت میں قاعدہ مقررہ کی بنا پر البتہ رد نہ ہو سکے گا بلکہ اس کا رد منوط ہوگا۔ امر آخر پر جس کا ذکر اوپر ہوچکا یعنی یہ کہ اس صورت میں کلام الٰہی اعلیٰ درجہ بلاغت سے نازل ہوا جاتا ہے۔فلیتأمل فانہ احریٰ بالتأمل۔ قولہ اور آپ نے تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے جو لکھا ہے کہ نزول عیسیٰ ہوگا اور کوئی اہل کتاب میں سے نہیں ہوگا جو اس کے نزول کے بعد اس پر ایمان نہیں لائے گا۔ یہ بیان آپ کیلئے کچھ مفید نہیں الی قولہ اور پھر اس قول کو مانحن فیہ سے تعلق کیا ہے۔ اقول اس مقام پر آپ نے میرے کلام کو غور سے ملاحظہ نہیں فرمایا۔ میرا مطلب وہ نہیں ہے جو آپ سمجھے ہیں میرا مطلب تو عبارت ابن کثیر کی نقل سے صرف اس قدر ہے کہ یہ معنے جو میں نے اختیار کئے ہیں اس طرف ایک جماعت سلف میں سے گئی ہے اور یہ امر میری تحریر میں مصرح ہے۔ چنداں غور کا بھی محتاج نہیں ہے۔ قولہ واضح رہے کہ آپ اس عاجز کے اعتراضات کو جو ازالہ اوہام میں آیت موصوفہ بالا کے ان معنوں پر وارد ہوتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اٹھا نہیں سکے بلکہ رکیک عذرات سے میرے اعتراضات کو اور بھی ثابت کردیا۔ اقول میرے ادلّہ کا قوی ہونا ابھی ثابت ہوچکا۔ پس یہ آپ کا فرمانا بجائے خود نہیں ہے۔ قولہ آپکے نون ثقیلہ کا حال تو معلوم ہوچکا ۔اقول آپ نے نون ثقیلہ کے بارہ میں جو کچھ تحریر فرمایا وہ سب ہباء منبثا ہوگیا۔ قولہ اور لیؤمننّ کے لفظ کی تعمیم بدستور قائم رہی۔ اقول جب یہ امر ثابت ہوگیا کہ نون مضارع کو خالص استقبال کیلئے کردیتا ہے تو اب تعمیم کہاں قائم رہی۔ قولہ اب فرض کے طور پر اگر آیت کے یہ معنے لئے جاویں کہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہوجائیں گے۔ جیسا کہ ابو مالک سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھا دیں کہ یہ معنے کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔ ا قول آپ نے اس معنے کی تقریر میں جو میرے نزدیک متعین ہیں تھوڑی سی خطا کی ہے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ کے