منؔ ذکر اوانثی من بنی آدم و قلبہ مومن باللہ ورسولہ وان ھذا العمل المامور بہ مشروع من عند اللہ بان یحي اللہ حیوۃ طیبۃ فی الدنیا وان یجزیہ باحسن ماعملہ فی الدار الاخرۃ۔ انتہی۔ اور جس کا وعدہ ہوتاہے وہ چیز وعدہ کے بعد پائی جاتی ہے۔ دوم تراجم ثلاثہ سے استقبال معلوم ہوتا ہے۔ لفظ شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ ہے ہر کہ عمل نیک کرد مرد باشد یازن واُو مسلمان است ہرانیہ زندہ کنمش بزندگانی پاک۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے جو کوئی کرے اچھا مردوں سے یا عورتوں سے اور وہ ہو ایمان والا پس البتہ زندہ کریں گے ہم اس کو زندگی پاکیزہ۔ عبارت شاہ عبدالقادر صاحب کی یہ ہے جس نے کیا نیک کام مرد ہو یا عورت ہو اور وہ یقین پر ہے تو اس کو ہم جلا دیں گے ایک اچھی زندگی۔ قولہ۔ چوتھی آیت یہ ہے ۱؂ اقول یہاں استقبال مراد ہے بچند وجوہ۔ اول یہ کہ یہ وعدہ مہاجرین و انصار سے ہے قال البیضاوی وقد انجز وعدہ بان سلط المھاجرین والانصار علی صنادید العرب واکاسرۃ العجم و قیاصرتھم و اورثھم ارضھم و دیارھم انتہی۔ اور جس کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ چیز بعد زمانہ وعدہ کے پائی جاتی ہے۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ میں استقبال مصرح ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ والبتہ نصرت خواہد داد خدا کسے راکہ قصد نصرت دین وے کند۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ اور البتہ مدد دیوے گا اللہ اس کو کہ مدد دیتا ہے اس کو۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے۔ اور اللہ مقرر مدد کرے گا اس کی جو مدد کرے گا اس کی۔ قولہ۔ پانچویں آیت یہ ہے ۲؂ اقول۔ یہاں بھی مستقبل مراد ہے بدووجہ اول یہ کہ یہ وعدہ ہے اور جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ وقت وعدہ کی متحقق نہیں ہوتی ہے بعد کو پائی جاتی ہے۔ دوم ۔ تراجم ثلاثہ اس پر دال ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے وآنانکہ ایمان آوردندوکارہائے شائستہ کردند۔ البتہ درآریم ایشاں را درزمرۂ شائستگان۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ اور وہ لوگ کہ ایمان لائے اور کام کئے اچھے البتہ داخل کریں گے ہم ان کو بیچ صالحوں کے۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور بھلے کام کئے ہم ان کو داخل کریں گے نیک لوگوں میں۔ آپ کا محذور جب لازم آوے کہ یہ بیان ہو عادت کا بلکہ یہ تو وعدہ ہے۔ قولہ۔ اب میں آپکے اس قاعدہ کو توڑ چکا کہ نون ثقیلہ کے داخل ہونے سے خواہ نخواہ اور ہر ایک جگہ خاص طورپر استقبال کے معنے ہی ہواکرتے ہیں۔ اقول بالا معلوم ہوا کہ آپ نے جتنی آیتیں ذکر کی ہیں