شاؔ ن المحصلین۔واضح ہو کہ آپ نے جو آیات مذکورہ میں سے بعض کو حال پر اور بعض کو استمرار پر محمول کیا ہے اس میں آپ متفرد ہیں اور محض اپنی رائے سے فرماتے ہیں یا سلف و خلف امت میں سے کسی نے یہ معنے کئے ہیں۔ بیّنوا توجروا۔قولہ اور دوسری آیات جو حال اور استقبال کے سلسلہ متصلہ ممتدہ پر استمرار کے طور پر مشتمل ہیں۔ ان کی نظیر ذیل میں پیش کرتا ہوں پہلی یہ آیت ۱ ۔اقول اس میں کلام ہے بدووجہ اوّل یہ کہ یہ امر مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یہ عادت مستمرہ ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلایا کرتا ہے لیکن یہاں اس عادت کا بیان مقصود نہیں۔ مقصود بالذّات صرف وعدہ ہے اور امر موعود وعدہ کے بعد متحقق ہوتا ہے جیسا کہ خود مرزا صاحب نے آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ کے معنے دوم کی تائید میں تصحیح خالص استقبال کی کی ہے حالانکہ اہل کتاب کا زہوق روح کے وقت ایمان لانا امر مستمر ہے خصوصیت کسی زمانہ کی اس میں نہیں ہے ۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ تعین استقبال کرتے ہیں لفظ شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ ہے۔ وآنا نکہ جہاد کردند در راہ ما البتہ دلالت کنیم ایشاں رابراہہائے خود۔ عبارت شاہ رفیع الدین کی یہ ہے۔ اور جن لوگوں نے کہ محنت کی بیچ راہ ہمارے کے البتہ دکھاویں گے ہم ان کو راہیں اپنی۔ عبارت شاہ عبدالقادر صاحب کی یہ ہے اور جنہوں نے محنت کی ہمارے واسطے ہم سمجھادیں گے ان کو اپنی راہیں۔ قولہ دوسری یہ آیت ۲ اقول یہاں ارادہ استمرار قطعاً باطل ہے اور ارادہ استقبال متعین بدووجہ۔ اول یہ کہ بیضاوی میں لکھا ہے کَتَبَ اللّٰہُ فِی اللَّوْحِ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ۔بالحجۃ ظاہر ہے کہ لوح محفوظ میں جب لکھا ہے اس وقت اور اس سے پہلے غلبہ متصور نہیں ہے کیونکہ غلبہ کیلئے غالب و مغلوب ضروری ہے اس وقت نہ رسل تھے نہ ان کی امت تھی یہ سب بعد ان کے ہوئے ہیں۔ دوم تراجم ثلاثہ استقبال پر دلالت کرتے ہیں۔ لفظ شاہ ولی اللہ صاحب کا یہ ہے حکم کرد خدا البتہ غالب شوم من و غالب شوند پیغمبر ان من۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے لکھ رکھا ہے خدا نے البتہ غالب آؤں گا میں اور پیغمبر میرے۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے۔ اللہ لکھ چکا کہ میں زبر ہوں گا اور میرے رسول۔قولہ تیسری آیت یہ ہے ۳۔اقول اس آیت میں بھی استقبال مراد ہے بچند وجوہ اول یہ کہ یہ وعدہ ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں مرقوم ہے ھذا وعد من اللّٰہِ تعالی فمن عمل صالحا وھو العمل المتابع لکتاب اللہ و سنۃ نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم