میںؔ غیر صحیح جانتے ہیں اس کو بمقابلہ خصم صحیح بناویں یہ تو مناظرہ نہ ہوا محض مجادلہ ٹھہرا۔
قولہ۔ پہلی آیات کی نظیریہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۱ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال مراد ہے۔ اقول قرآن مجید میں فلنولینک ہے نہ ولنولینّک جیسا کہ مرزا صاحب لکھتے ہیں یہاں ارادہ حال غلط محض ہے بلکہ یہاں خالص مستقبل مراد ہے بچند وجوہ۔ اول یہ کہ بیضاوی میں مرقوم ہے فول وجھک اصرف وجھک شطر المسجد الحرام نحوہ۔عبدالحکیم اصرف وجھک کے تحت میں لکھتے ہیں ولم یجعلہ من المتعدی الی المفعولین بان یکون شطر مفعولہ الثانی تربتہ بالفاء وکونہ انجاز اللوعد بان اللہ تعالٰی یجعل النبی مستقبلا القبلۃ او قریبا من سمتھا بان یامر بالصلٰوۃ الیھا یناسبہ ان یکون النبی مامورا بصرف الوجہ الیھالا بان یجعل نفسہ مستقبلا ایاھا اوقریبا من جھتھا۔ انتہٰی ۔اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ نے اپنے قول فلنولّینّک میں وعدہ فرمایا۔ اور فولّ وجھک کے ساتھ اس کا انجاز کیا۔ دوم یہ کہ اگر یہاں حال مراد لیا جائے تو فلنولینّک کے یہ معنے ہوں گے پس البتہ پھیرتے ہیں ہم تجھ کو اور پھیر نے سے یہ تو مراد ہی نہیں کہ ہم تجھ کو ہاتھ پکڑ کے قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ ہم تجھ کو قبلہ کی طرف پھیرنے کا حکم کرتے ہیں۔ اس تقدیر پر قول اللہ تعالیٰ کا فول وجھک زاید ولا طایل ہوگا۔ سوم یہ کہ شاہ ولی اللہ صاحب وشاہ رفیع الدین صاحب و شاہ عبدالقادر صاحب نے ترجمہ اس لفظ کا بمعنے مستقبل کیا ہے۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ پس البتہ متوجہ گر دانیم ترابآں قبلہ کہ خوشنودشوی۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ پس البتہ پھیریں گے ہم تجھ کو اس قبلہ کو کہ پسند کرے اس کو۔ لفظ شاہ عبدالقادر کا یہ ہے۔ سو البتہ پھیریں گے تجھ کو جس قبلہ کی طرف تو راضی ہے۔قولہ اور ایسا ہی یہ آیت ۲ اقول ارادہ حال اس آیت میں غلط ہے بد ووجہ اوّل یہ کہ آیت میں وعید ہے اور جس چیز کی وعید کی جاتی ہے وہ اس کے بعد متحقق ہوتی ہے۔ پس استقبال یہاں متعین ہوا۔ دوم یہ کہ تراجم ثلاثہ سے معنے استقبال واضح ہیں۔ عبارت شاہ ولی اللہ صاحب کی یہ ہے۔ البتہ بسوز انیم آنراپس پراگندہ سازیم آنرا۔ لفظ شاہ رفیع الدین صاحب کا یہ ہے۔ ابھی جلا دیں گے ہم اس کو پھر اڑاویں گے ہم اس کو۔ لفظ شاہ عبدالقادر صاحب کا یہ ہے ہم اس کو جلا دیں گے پھر بکھیر یں گے۔ ان دونوں آیتوں میں جو مرزا صاحب نے حال کے معنی سمجھے تو منشاء غلط یہ معلوم ہوتا ہے کہ استقبال دو طرح کا ہوتا ہے ایک استقبال قریب دوسرا استقبال بعید مرزا صاحب استقبال قریب کو قرب کی وجہ سے حال سمجھ گئے ہیں وھٰذا بعید من