اورؔ خلاف نفس الامر کا بھی موہم نہ ہوتا۔ یعنی بجائے لیومننّ کے لفظ یؤمن اختیار کیا جاتا۔ یعنی یوں کہا جاتا وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اِلَّا یؤمن بِہٖ قَبْلَ مَوْتِہٖ یہ عبارت ایسی عمدہ ہے کہ اس میں وعید و تحریض جو مطلوب ہے وہ بھی حاصل ہے اور موہم خلاف نفس الامر بھی نہیں ہے اور اختصار بھی حاصل ہے یعنی لام ونون نہیں ہے پس قرآن مجید کی بلاغت کی جو حد اعجاز کو پہنچ گئی ہے خلاف ہے کہ ایسی عمدہ عبارت چھوڑ کر بجائے اس کے لیومنن اختیار کیا جاوے کہ جس میں ایہام خلاف نفس الامر ہے اور اطناب بلا فائدہ اور یہ سب محذور خالص معنے استقبال پر حمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ محصل کلام اس مقام پر یہ ہے کہ معنے دوم آیت کے بہر تقدیر باطل ہیں اگر خالص استقبال پر محمول کیجئے تو کلام حق تعالیٰ جو بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچ چکا ہے بلاغت سے گرا جاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے قاعدہ مجمع علیہا نحاۃ کے۔ قولہ۔ بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے اس واسطے کہ دوسری قراء ت میں یوں آیا ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے۔ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِہٖ قَبْلَ مَوْتِھِمْ ۔اقول۔ اس میں کلام ہے بچند وجوہ۔اول یہ کہ اس قراء ت کی بناء پر بھی معنی دوم صحیح نہیں ہوتے ہیں کیونکہ لیؤمننّ کو یاتو خالص استقبال پر محمول کیا جائے گا تو کلام حق تعالیٰ جو بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچ گیا ہے۔ بلاغت سے نازل ہواجاتا ہے اور اگر خالص استقبال پر محمول نہ کیجئے تو مخالف ہوتا ہے قاعد ہ مجمع علیہا نحاۃ کے۔ دوم یہ کہ یہ قراء ت ہمارے معنے کے مخالف نہیں ہے کیونکہ اس قراء ت پر یہ معنی ہیں کہ ہر اہل کتاب اپنے مرنے سے پہلے زمانہ آئندہ میں مسیح پر ایمان لاوے گا اور یہ معنے معنے اول کے ساتھ جمع ہوسکتے ہیں اس طرح پرکہ زمانہ آئندہ سے زمانہ نزول حضرت عیسٰی علیہ السلام مراد لیا جاوے۔ سوم یہ کہ یہ قراء ت غیر متواترہ ہے اور قراء ت غیر متواترہ عموماً قابل احتجاج نہیں ہے بلکہ جب بسند صحیح متصل منقول ہو اور یہاں سند متصل صحیح اسکی مرزا صاحب نے تحریر نہیں فرمائی۔ مرزا صاحب پر واجب ہے کہ اسکی سند بیان فرماویں اور اس کے سب رجال کی توثیق کریں-ودونہ خرط القتاد۔ چہارم یہ کہ مرزا صاحب نے قبل موتہٖ کی ضمیر توضیح المرام اور ازالۃ الاوہام میں جو الہامی ہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف راجع کی ہے اور یہ قراء ت اس خیال کو بکلی باطل ٹھہرا رہی ہے۔ مرزا صاحب یہ تو خیال فرماویں کہ وہ معنے کہ جس کی تصحیح و تقویت کے وہ آپ درپے ہیں۔ اور یہ محض بغرض توڑنے دعویٰ اس خاکسار کے ہے وہ خودنفس الامر میں ان کے نزدیک غیر صحیح ہیں کیونکہ اس تقدیر پر استدلال ان کا موت مسیح پر آیت وَاِنْ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ سے مطلق غیر صحیح ٹھہرتا ہے پس کیا یہی مقتضائے دیانت وانصاف ہے کہ جس چیز کو وہ خود نفس الامر