دلیلؔ کا یہ ایک مقدمہ ہے۔ چہارم اگر بار ثبوت آپ کے ذمہ نہیں ہے تو یہ کام عبث آپ نے کیوں کیا کہ آپ نے ادلّہ وفات مسیح توضیح مرام وازا لۃ الاوہام میں بہ بسط تمام بیان کئے۔ قولہ۔ مولوی صاحب نے اس کامیابی کی امید پر کہ کسی طرح آیت موصوفہ بالا قطعیۃ الدلالت ہوجاوے یہ ایک جدید قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے لفظ لیومنن میں نون تاکید ہے۔ اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کیلئے کر دیتا ہے۔ اقول اس قاعدہ کو جدید قاعدہ کہنا نہایت محل استبعاد ہے۔ اگر مرزا صاحب میری ہی تحریر کو غور سے پڑھ لیتے تو معلوم ہوجاتا کہ ازہری اور ملا جامی اور عبدالحکیم اور صاحب مغنی اور شیخ زادہ نے اس قاعدہ کی تصریح کی ہے اور سب کتب نحو میں یہ قاعدہ مرقوم ہے کسی نے اس میں خلاف نہیں کیا یہاں تک کہ میزان خوان اطفال بھی جانتے ہیں کہ نون تاکید مضارع کو بمعنی استقبال کردیتا ہے۔ قولہ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خیال میں اس مدعا کے اثبات کیلئے قرآن کریم سے نظیر کے طور پر ایسے الفاظ نقل کئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے زعم میں مضارع استقبال ہوگیا ہے۔ اقول۔ خاکسار کی اصل دلیل اتفاق ائمہ نحات کا ہے اس قاعدہ پر اس کا جواب مرزا صاحب نے مطلق نہیں دیا۔ ہاں آیات اس قاعدہ کی تائید کیلئے البتہ لکھی گئی ہیں۔ مرزا صاحب پر واجب ہے کہ اس قاعدہ کے توڑنے کیلئے کوئی عبارت کسی کتاب معتبر نحو کی پیش کریں۔ قولہ۔ کیا استقبال کے طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہوسکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا۔اقول۔ مخفی نہ رہے کہ اس معنے کا مناط اس پر ہے کہ احتضارکے وقت ہر شخص پر وہ حق کھل جاتا ہے جس کو وہ نہ جانتا تھا جیسا کہ تفسیر ابن کثیروغیرہ میں لکھا ہے اور یہ امر نفس الامر میں تینوں زمانوں کو شامل ہے یعنی نزول آیت کے قبل کے زمانہ اور وقت نزول کا زمانہ اور بعد کا زمانہ اب آیت اگر خالص استقبال کیلئے کیجئے گا تو یہ شبہ ہوگا کہ یہ امر زمانہ ماضی و حال کو شامل نہیں ہے اور یہ خلاف نفس الامر ہے پس اس کلام میں یہ عیب ہوا کہ خلاف نفس الامر کا موہم ہے اور فائدہ کوئی نہیں ہے کہ اگر کہا جاوے کہ اس آیت میں وعید ہے اہل کتاب کے لئے اور تحریض ہے ان کو ایمان لانے پر قبل اس کے کہ مضطر ہوں اس کی طرف جیسا کہ بیضاوی وغیرہ میں لکھا ہے اور اس وعید و تحریض سے وہی اہل کتاب منتفع ہوسکتے ہیں جو بعد نزول آیت کے مرنے والے ہیں نہ وہ جو پہلے مرچکے اور نہ وہ جو وقت نزول کے زہوق روح کی حالت میں تھے اس فائدہ کیلئے تخصیص استقبال کی گئی تو جواب یہ ہے کہ اگر ایسا لفظ اختیار کیا جاتا جو تینوں زمانوں کو شامل ہوتا تو یہی و عید وتحریض ان اہل کتاب کی حاصل ہوتی جو بعد نزول آیت کے مرنے والے ہیں۔