اسؔ کے آپ کے دل میں یہ خیال ہے کہ اس رفع سے رفع مع الجسد مراد ہے کیونکہ ۱کے ضمیر کا مرجع بھی روح مع الجسد ہے۔ لیکن حضرت آپ کی یہ سخت غلطی ہے۔ نفی قتل اور نفی مصلوبیت سے تو صرف یہ مدعا اللّٰہ جلّ شانہٗ کا ہے کہ مسیح کو اللّٰہ جلّ شانہ ٗنے مصلوب ہونے سے بچا لیا اور آیت ۲ اس وعدہ کے ایفا کی طرف اشارہ ہے جو دوسری آیت میں ہوچکا ہے اور اس آیت کے ٹھیک ٹھیک معنے سمجھنے کیلئے اس آیت کو بغور پڑھنا چاہئے۔ جس میں رفع کا وعدہ ہوا تھا اور وہ آیت یہ ہے ۳ حضرت اس رافعک اليّ میں جو رفع کا وعدہ دیا گیا تھا یہ وہی وعدہ ہے جو آیت بل رفعہ اللّٰہ الیہ میں پورا کیا گیا اب آپ وعدہ کی آیت پر نظر ڈال کر دیکھئے کہ اس کے پہلے کون لفظ موجود ہیں تو فی الفور آپ کو نظر آجائے گا کہ اس سے پہلے انِّی متوفّیک ہے اب ان دونوں آیتوں کے ملانے سے جن میں سے ایک وعدہ کی آیت اور ایک ایفاء وعدہ کی آیت ہے آپ پر کھل جائے گا کہ جس طرز سے وعدہ تھا اسی طرز سے وہ پورا ہونا چاہئے تھا یعنی وعدہ یہ تھا کہ اے عیسیٰ میں تجھے مارنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اس سے صاف کھل گیا کہ ان کی روح اٹھائی گئی ہے کیونکہ موت کے بعد روح ہی اٹھائی جاتی ہے نہ کہ جسم۔ خدا تعالیٰ نے اس آیت میں یہ نہیں کہا کہ میں تجھے آسمان کی طرف اٹھانے والا ہوں بلکہ یہ کہا کہ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور جو لوگ موت کے ذریعہ سے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں اسی قسم کے لفظ ان کے حق میں بولے جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائے گئے یا خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کر گئے جیسا کہ اس آیت میں بھی ہے ۴ اور جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے اِنّا للّٰہ واِنّا اِلیہ راجعون۔
چوتھی دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتاہے ۵ ا س جگہ بھی آپ مان گئے ہیں کہ یہ آیت آپ کے مطلب پر قطعیۃ الدلالت نہیں ہے۔ لیکن میں آپ کو محض للہ یاد دلاتا ہوں کہ اس آیت کو حضرت مسیح کے دوبارہ نزول سے شکی طور پر بھی کچھ تعلق نہیں بات یہ ہے کہ حضرت مسیح کے وقت میں یہودیوں میں ایک فرقہ صدوقی نام تھا جو قیامت سے منکر تھے پہلی کتابوں میں بطور پیشین گوئی کے لکھا گیا تھا کہ ان کو سمجھانے کے لئے مسیح کی ولادت بغیر باپ کے ہوگی اور یہ ان کے لئے ایک نشان قرار
دیا گیا تھا جیسا کہ اللّٰہ جلّ شانہٗ دوسری آیت میں فرماتا ہے ۶