فرماؔ تاہے۔ ۱؂ اب دیکھئے کہ قرآن کریم میں اللّٰہ جلّ شانہٗ کا صاف وعدہ ہے کہ قیامت کے دن تک دونوں فرقے متبعین اور کفار کے باقی رہیں گے- پھر کیونکر ممکن ہے کہ درمیان میں کوئی ایسا زمانہ بھی آوے کہ کفار بالکل زمین پر سے نابود ہوجائیں۔ پھر اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے۔ ۲؂ یعنی قیامت کے دن تک ہم نے یہود اور نصاریٰ میں عداوت ڈال دی ہے اب ظاہر ہے کہ اگر قیامت سے پہلے بھی ایک فرقہ ان دونوں میں سے نابود ہوجائے تو پھر عداوت کیونکر قائم رہے گی۔ حضرت ان نصوص صریحہ بیّنہ سے تو صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ کفر کو اختیار کرنے والے قیامت کے دن تک رہیں گے- پھر اس کے یہ معنی کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔ کچھ سوچ کر جواب دیں۔ دوسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ ۳؂ اور آپ کہل کے لفظ سے درمیانی عمر کا آدمی مراد لیتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے۔ صحیح بخاری میں دیکھئے جو بعد کتاب اللہ اصح الکتب ہے اس میں کہل کے معنے جو ان مضبوط کے لکھے ہیں اور یہی معنے قاموس اور تفسیر کشاف وغیرہ میں موجود ہیں اور سیاق سباق آیات کا بھی انہیں معنوں کو چاہتا ہے۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ کا اس کلام سے مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم نے خورد سالی کے زمانہ میں کلام کر کے اپنے نبی ہونے کا اظہار کیا پھر ایسا ہی جوانی میں بھر کر اور مبعوث ہو کر اپنی نبوت کا اظہار کرے گا سو کلام سے مراد وہ خاص کلام ہے جو حضرت مسیح نے ان یہودیوں سے کیا تھا جو یہ الزام ان کی والدہ پر لگاتے تھے اور جمع ہو کر آئے تھے کہ اے مریم تو نے یہ کیا کام کیا۔ پس یہی معنے منشاء کلام الٰہی کے مطابق ہیں اگر ادھیڑ عمر کے زمانہ کا کلام مراد ہوتا تو اس صورت میں یہ آیت نعوذ باللہ لغو ٹھہرتی گویا اس کے یہ معنے ہوتے کہ مسیح نے خورد سالی میں کلام کی اور پھر پیرانہ سالی کے قریب پہنچ کر کلام کرے گا اور درمیان کی عمر میں بے زبان رہے گامطلب تو صرف اتنا تھا کہ دو مرتبہ اپنی نبوت پر گواہی دے گا منصف کیلئے صرف ایک بخاری کا دیکھنا ہی کافی ہے۔ پھر جس حالت میں آپ خود مانتے ہیں کہ یہ آیت قطعیۃ الدلالت نہیں اور جس آیت کا سہارا اس کو دیا گیا تھا وہ آپ کی مخالف ثابت ہوگئی تو پھر یہ آیت جو خود آپ کے اقرار سے قطعیۃ الدلالت نہیں کیا فائدہ آپ کو پہنچا سکتی ہے۔ تیسری دلیل آپ نے یہ پیش کی ہے کہ سورت نساء میں ہے ۴؂ آپ اس میں بھی قبول کرتے ہیں کہ یہ آیت قطعیۃ الدلات نہیں مگر باوجود