اسؔ جگہ النّاس سے مراد وہی صدوقی فرقہ ہے جو اس زمانہ میں بکثرت موجود تھا چونکہ توریت میں قیامت کا ذکر بظاہر کسی جگہ معلوم نہیں ہوتا اس لئے یہ فرقہ مردوں کے جی اٹھنے سے بکلی منکر ہوگیا تھا۔ اب تک بائیبل کے بعض صحیفوں میں موجود ہے کہ مسیح اپنی ولادت کے رو سے بطور علم الساعۃ کے ان کیلئے آیا تھا۔ اب دیکھئے اس آیت کو نزول مسیح سے تعلق کیا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ مفسرین نے کس قدر جدا جدا طور پر اس کے معنے لکھے ہیں ایک جماعت نے قرآن کریم کی طرف ضمیر اِنَّہٗ کی پھیر دی ہے کیونکہ قرآن کریم سے روحانی طور پر مردے زندہ ہوتے ہیں اور اگر خواہ نخواہ تحکم کے طور پر اس جگہ نزول مسیح مراد لیا جائے اور وہی نزول ان لوگوں کیلئے جو آنحضرت صلعم کے عہد میں تھے نشان قیامت ٹھہرایا جائے تو یہ استدلال وجود قیامت تک ہنسی کے لائق ہوگا اور جن کو یہ خطاب کیا گیا کہ مسیح آخری زمانہ میں نزول کر کے قیامت کا نشان ٹھہرے گا۔ اب تم باوجود اتنے بڑے نشان کے قیامت سے کیوں انکاری ہوئے۔ وہ عذر پیش کرسکتے ہیں کہ دلیل تو ابھی موجود نہیں پھر یہ کہنا کس قدر عبث ہے کہ اب قیامت کے وجود پر ایمان لے آؤ شک مت کرو۔ ہم نے دلیل قیامت کے آنے کی بیان کردی۔ دلیل پنجم آپ نے بیان فرمائی ہے کہ حدیث بخاری اور مسلم میں مسیح کے نزول کے بارے میں لکھا ہے اور ابوہریرہ نے اس تقریب پر فرمایا ہے فاقرء وا ان شئتم وان من اھل الکتب الخ۔ حضرت یہ کچھ دلیل نہیں نزول مسیح موعود سے کس کو انکار ہے اور فہم ابوہریرہ حجت کے لائق نہیں اور ابوہریرہ نے فاقرء وا ان شئتم میں شک کا لفظ استعمال کیا ہے- حضرت ابوہریرہ وہی صحابی ہیں جو حدیث دخول فی النار کو سن کر اس دھوکہ میں پڑے رہے جو ہم میں سے سب سے آخر مرنے والا دوزخ میں پڑے گا۔ پیش گوئی کو اجتہادی طور پر سمجھنے میں انبیاء نے بھی غلطی کھائی فذھب وھلی کی حدیث آپ کو یاد ہوگی پھر ابوہریرہ نے اگر غلطی سے پیشگوئی کے الٹے معنے سمجھ لئے تو کیا حجت ہوسکتی ہے۔ پھر آپ ابن کثیر سے یہ نقل کرتے ہیں کہ حسن سے روایت ہے کہ ان عیسی لم یمت وانہ راجع الیکم یہ حدیث مرسل ہے پھر کیونکر قطعیۃ الدلالت ہوگی ماسوا اس کے یہ بخاری کی حدیث صحیح مرفوع متصل سے جو حضرت عیسیٰ کی وفات پر دلالت کرتی ہے اور نیز قرآن کی تعلیم سے مخالف ہے۔ پھر کیونکر سندکے لائق ہے۔ بعد اس کے آپ نے میرے دلائل وفات مسیح پر جرح کیا ہے۔ یہ جرح سراسر آپ کی عدم توجہ پر دلالت کرتی ہے میں اس وقت ایسے دلائل پیش کرنا نہیں چاہتا۔ آپ کے دلائل حیات مسیح کا فیصلہ کر کے پھر پیش کروں گا۔ والحمد لِلّٰہ اولا واٰخرًا وظاہرًا وباطنًا کل شیء فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام۔