سےؔ مراد حقیقی ایمان نہیں بلکہ یقین مراد ہے ظاہر لفظ ایمان کا حقیقی ایمان پر دلالت کرتا ہے اور صرف عن الظاہر کیلئے کوئی قرینہ آپ کے پاس چاہئے۔ جب کہ لفظ لفظ آیت میں یہ شبہات ہیں تو پھر آیت قطعیۃ الدلالت کیونکر ہوئی اگر آپ لیؤمننّ سے بغیر کسی قرینہ کے مجازی ایمان مراد لیں گے تو آپ کے مخالف کا حق ہوگا کہ وہ حقیقی معنی مراد لیوے آپ کو سوچنا چاہئے کہ ایسے ایمان سے فائدہ ہی کیا ہے اور مسیح کی خصوصیت کیا ٹھہری ایسا تو ہر ایک نبی کے زمانہ میں ہوا کرتا ہے کہ بدبخت لوگ زبان سے اس کے منکر ہوتے ہیں اور دل سے یقین کر جاتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی نسبت اللّٰہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱؂ یعنی انہوں نے موسیٰ کے نشانوں کا انکار کیا۔ لیکن ان کے دل یقین کر گئے اور ہمارے سید و مولٰے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت فرماتا ہے ۲؂ یعنی کافر لوگ جو اہل کتاب ہیں ایسے یقینی طور پر اس کو شناخت کرتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پس اگر ایمان سے مراد ایسا ہی ایمان ہے جو کا مصداق ہے تو پھر ہمارے علماء نے کیوں شور مچا رکھا ہے کہ اس وقت اسلام ہی اسلام ہوجائے گا بلاشبہ قرآن شریف کا یہ منشاء نہیں۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس تاویل کو خود رکیک سمجھ کر اسی وجہ سے یہ دوسرا جواب دیا ہے کہ آیت کے یہ معنی ہیں کہ مسیح کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ اس زمانہ کے اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے اور اس زمانہ سے پہلے کفر پر مرنے والے کفر پر مریں گے۔ اب حضرت آپ انصافاًفرماویں کہ ان معنوں کو آپ کے ان معنوں سے جو آیت لیومنن کی نسبت آپ بیان فرماتے ہیں موافقت ہے یا مخالفت ابھی آپ قبول کرچکے ہیں کہ مسیح کے نزول کے بعد تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے اور اب آپ نے اس قبول کردہ بات سے رجوع کر کے یہ نئے معنے نکالے کہ نزول کے بعد ضروری نہیں کہ تمام کفار ایمان لے آویں بلکہ بہتیرے کفر پر بھی مریں گے حضرت آپ اس جگہ خود سوچیں کہ اِنْ کا حرف کل اہل کتاب کو ایمانداروں میں شامل کرتا ہے یاکسی کو باہر رکھتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ اِنْ کا لفظ تو ایسا کامل حصر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو یہ لفظ بیکار اور غیر مؤثر ٹھہرتا ہے۔ اول تو آپ نے اِنْ کے لفظ سے زمانہ قبل از نزول کو باہر رکھا پھر آپ نے زمانہ بعد از نزول میں بھی اسکا پورا پورا اثر ہونے سے انکار کیا۔ تو پھر اس لفظ لانے کا فائدہ کیا تھا اور یہ تاویلیں آپکو کسی حدیث یا آیت سے ملیں یا حضرت کا اپنا ہی ایجاد ہے۔ یا حضرت آپ ان آیتوں پر متوجہ ہوں شاید خداتعالیٰ انہیں کااثر آپکے دل پر ڈالے۔ اللّٰہ جلّشانہٗ