جگہؔ خالص طور پر استقبال کے معنے ہی ہوا کرتے ہیں۔ اور آپ کو معلوم ہے کہ تمام مفسر قدیم و جدید جن میں عرب کے رہنے والے بھی داخل ہیں لیؤمننّ کے لفظ میں حال کے معنے بھی کرتے ہیں۔ معالم وغیرہ تفسیریں آپ کو معلوم ہیں حاجت بیان نہیں وہ لوگ بھی تو آخر قواعد دان اور علم ادب اور محاورہ عرب سے واقف تھے۔ کیا وہ آپ کے اس جدید قاعدہ سے بے خبر رہے۔ اور آپ نے تفسیر ابن کثیر کے حوالہ سے جو لکھا ہے کہ نزول عیسیٰ ہوگا اور کوئی اہل کتاب میں سے نہیں ہوگا جو اس کے نزول کے بعد اس پر ایمان نہیں لاوے گا یہ بیان آپ کیلئے کچھ مفید نہیں۔ اول تو آپ سے آیات قطعیۃ الدلالۃ اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ کا مطالبہ ہے اور پھر اس قول کو مانحن فیہ سے تعلق کیا ہے نزول سے کہاں سمجھا جاتا ہے جو آسمان سے نزول ہو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ۱ کہ ہم نے لوہا اتارا ہم نے لباس۲ اتارا ہم نے یہ نبی ۳ اتارا ہم نے چار پائے ۴ گھوڑے گدھے وغیرہ اتارے۔ کیا کوئی ثابت کرسکتا ہے کہ یہ سب آسمان سے ہی اترے تھے۔ کیا کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل مل سکتی ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ یہ سب درحقیقت آسمان سے ہی اترے ہیں۔ پھر ہم نے تسلیم کیا کہ بخاری و مسلم وغیرہ میں نزول کا لفظ آیا ہے۔ مگر حضرت میں نہیں سمجھ سکتا کہ آپ اس لفظ سے کیا فائدہ اٹھا سکتے ہیں مسافر کے طور پر جو ایک شخص دوسری جگہ جاتا ہے اس کو بھی نزیل ہی کہتے ہیں۔ اور یہ بھی واضح رہے کہ آپ اس عاجز کے اعتراضات کو جو ازالہ اوہام میں آیا تھا موصوفہ بالا کے ان معنوں پر وارد ہوتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اٹھا نہیں سکے بلکہ رکیک عذرات سے میرے اعتراضات کو اور بھی ثابت کیا۔ آپ کے نون ثقیلہ کا حال تو معلوم ہوچکا اور لیؤمننّ کے لفظ کی تعمیم بدستور قائم رہی اب فرض کے طور پر اگر آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ حضرت عیسیٰ کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہوجائیں گے جیسا کہ ابو مالک سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھادیں کہ یہ معنے کیونکر درست ٹھہر سکتے ہیں۔ آپ تسلیم کرچکے ہیں کہ مسیح کے دَم سے اس کے نزول کے بعد ہزارہا لوگ کفر کی حالت میں مریں گے۔ اب اگر آپ ان کفار کوجو کفر پر مر گئے مومن ٹھہراتے ہیں یا اس جگہ ایمان سے مراد یقین رکھتے ہیں تو اس دعوے پر آپ کے پاس دلیل کیا ہے۔ حدیث میں تو صرف کفر پر مرنا ان کا لکھا ہے یہ آپ نے کہاں سے اور کس جگہ سے نکال لیا ہے کہ کفر پر تو مریں گے مگر ان کو حضرت عیسیٰ کی رسالت پر یقین ہوگا اورکس نص قرآن یا حدیث سے آپ کو معلوم ہوا کہ اس جگہ ایمان