بہتؔ سی کوشش کی ہے اور پوری جانفشانی سے ناخنوں تک زور لگایا ہے لیکن افسوس کہ وہ اس قصد میں ناکام رہے اور قطعیۃ الدلالۃ نہ بنا سکے بلکہ اور بھی شبہات ڈال دیئے۔
مولوی صاحب نے اس کامیابی کی امید پر کہ کسی طرح آیت موصوفہ بالاقطعیۃ الدلالۃ ہوجائے یہ ایک جدید قاعدہ بیان فرمایا ہے کہ آیت کے لفظ لیومنن میں نون تاکید ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کیلئے کردیتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے خیال میں اس مدعا کے اثبات کیلئے قرآن کریم سے نظیر کے طور پر کئی ایسے الفاظ نقل کئے ہیں جن کی وجہ سے ان کے زعم میں مضارع استقبال ہوگیا ہے۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے اس تفتیش میں ناحق وقت ضائع کیا کیونکہ اگر فرض کے طور پر یہ مان لیا جائے کہ آیت موصوفہ میں لفظ لیومنن استقبال کے ہی معنی رکھتا ہے پھر بھی کیونکر یہ آیت مسیح کی زندگی پر قطعیۃ الدلالۃ ہوسکتی ہے کیا استقبالی طور پر یہ دوسرے معنے بھی نہیں ہوسکتے کہ کوئی اہل کتاب میں سے ایسا نہیں جو اپنی موت سے پہلے مسیح پر ایمان نہیں لائے گا دیکھو یہ بھی تو خالص استقبال ہی ہے کیونکہ آیت اپنے نزول کے بعد کے زمانہ کی خبر دیتی ہے بلکہ ان معنوں پر آیت کی دلالت صریحہ ہے اس واسطے کہ دوسری قراء ت میں یوں آیا ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہیں الالیومنن بہ قبل موتھم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے مسیح ابن مریم پر ایمان لے آویں گے اب دیکھئے کہ قبل موتہٖ کی ضمیر جو آپ حضرت مسیح کی طرف پھیرتے تھے دوسری قراء ت سے یہ معلوم ہوا کہ وہ حضرت مسیح کی طرف نہیں بلکہ اہل کتاب فرقہ کی طرف پھرتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ قراء ت غیر متواترہ بھی حکم حدیث احاد کا رکھتی ہے اور آیات کے معنوں کے وقت ایسے معنے زیادہ تر قبول کے لائق ہیں جو دوسری قراء ت کے مخالف نہ ہوں۔ اب آپ ہی انصاف فرمایئے کہ یہ آیت جس کی دوسری قراء ت آپ کے خیال کو بکلی باطل ٹھہرا رہی ہے۔ کیونکر قطعیۃ الدلالۃ ٹھہر سکتی ہے۔
ماسوا اس کے آپ نے جو نون ثقیلہ کا قاعدہ پیش کیا ہے وہ سراسر مخدوش اور باطل ہے۔ حضرت ہرایک جگہ اور ہرایک مقام میں نون ثقیلہ کے ملانے سے مضارع استقبال نہیں بن سکتا۔ قرآن کریم کیلئے قرآن کریم کی نظیریں کافی ہیں اگرچہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ قرآن کریم کے مضارعات پرجب نون ثقیلہ ملا ہے تو وہ استقبال کے معنوں پرمستعمل ہوئے ہیں۔ لیکن بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یاحال اوراستقبال بلکہ ماضی بھی اشتراکی طورپر ایک سلسلہ متصلہ ممتدہ کی طرح مرادلئے گئے ہیں۔ یعنی ایسا سلسلہ جوحال یاماضی سے شروع ہوا اوراستقبال کی انتہاتک بلاانقطاع برابر چلاگیا۔