بشرؔ ط زندگی ارذل عمر تک پہنچنا یہ ایک فطرتی اور اصلی امر ہے جو انسان کی فطرت کو لگا ہوا ہے جس کے بیان میں قرآن کریم بھرا ہوا ہے۔ سو جو شخص اس اصلی امر کے مخالف کسی کی نسبت دعویٰ کرتا ہے اثبات دعویٰ اس کے ذمہ ہے مثلاً زید جو تین سو برس سے مفقود الخبر ہے اس کی نسبت دو شخصوں کی کسی قاضی کی عدالت میں یہ بحث ہو کہ ایک اس کی نسبت یہ بیان کرتا ہے کہ وہ فوت ہوگیا اور دوسرا یہ بیان کرتا ہے کہ اب تک زندہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قاضی ثبوت اس سے طلب کرے گا جو خوارق عادت زندگی کا قائل ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو شرعی عدالتوں کا سلسلہ درہم برہم ہوجائے اب ہمارے اس تمام بیان سے ظاہر ہے کہ دراصل ہمارے ذمہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ وفات جو ہریک انسان کیلئے حد مقررہ فطرت تک ایک طبعی امر ہے اس کا ثبوت دیں بلکہ ہمارے فریق مخالف کے ذمہ یہ بار ثبوت ہے کہ ایک شخص حد مقررہ فطرت اللہ تک فوت نہیں ہوا بلکہ دراصل اب تک زندہ ہے اور صدہا برس کے مرو ر زمانہ نے اس پر ذرہ اثر نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں کئی انبیاء وغیرہ کا ذکر کر کے ان کی موت کا کچھ بیان نہیں کیا تو کیا اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ ابتک زندہ ہیں بلکہ زندگی کسی کی جب ہی ثابت ہوگی کہ جب زندگی کا ثبوت دیا جائے گا ورنہ موت و حیات کے ترک ذکر سے موت ہی سمجھی جائے گی۔
اب جب کہ یہ بات فیصلہ پاچکی ہے کہ ہمارے ذمہ یہ بار ثبوت نہیں کہ مسیح ابن مریم جواوروں کی طرح انسان تھا وہ کیوں اور انسانوں کی طرح عمر طبعی کے دائرے کے اندراندر فوت ہوگیا بلکہ حضرت مولوی صاحب کے ذمہ یہ بارِثبوت ہے کہ مسیح ابن مریم انسان ہوکر اور تمام انسانوں کے خواص اپنے اندر رکھ کر ابتک برخلاف نصوص عامہ قرآنیہ وحدیثیہ وبرخلاف قانون فطرت مرنے سے بچا ہوا ہے اور زمانہ نے اس پر اثر کرکے ارذل عمر تک بھی نہیں پہنچایا۔ تو اب دیکھنا چاہئے کہ مولوی صاحب نے اس بارہ میں کیا ثبوت دیا ہے۔ اور کن آیات قطعیۃ الدلالۃ اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ کے کھلے کھلے منطوق سے اس عظیم الشان دعویٰ کو بپا یہ ثبوت پہنچایا ہے۔ سو واضح ہو کہ مولوی صاحب نے سب سے پہلے یہ دلیل پیش کی ہے کہ سورۃ النساء کی یہ آیت کہ ۱ حضرت مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی پر شاہد ناطق ہے اور چونکہ حضرت مولوی صاحب موصوف کے دل میں یہ دھڑکا تھا کہ یہ آیت تو ذوالوجوہ ہے اور تمام مفسر کئی کئی معنی اسکے کرگئے ہیں اور کسی مبسوط تفسیر میں اس کو ایک ہی معنے میں محدود نہیں رکھا گیا لہٰذا حضرت مولوی صاحب نے اس کو قطعیۃ الدلالۃ بنانے کیلئے