پہلی آیات کی نظیر یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱ اب ظاہر ہے کہ اس جگہ حال ہی مراد ہے کیونکہ بمجرد نزول آیت کے بغیر توقف اور تراخی کے خانہ کعبہ کی طرف منہ پھیرنے کا حکم ہوگیا یہاں تک کہ نماز میں ہی منہ پھیر دیا گیا۔ اگر یہ حال نہیں تو پھر حال کس کو کہتے ہیں۔ استقبال تو اس صورت میں ہوتا کہ خبر اور ظہور خبر میں کچھ فاصلہ بھی ہوتا سو آیت کے یہ معنے ہیں کہ ہم تجھ کو اس قبلہ کی طرف پھیرتے ہیں جس پر تو راضی ہے سو تو مسجد حرام کی طرف منہ کر اور ایسا ہی یہ آیت ۲ الخ یعنی اپنے معبود کی طرف دیکھ جس پر تو معتکف تھا کہ اب ہم اس کو جلاتے ہیں۔ اس جگہ بھی استقبال مراد نہیں۔ کیونکہ استقبال اور حال میں کسی قدر ُ بعد زمان کا ہونا شرط ہے۔ مثلاً اگر کوئی کسی کو یہ کہے کہ میں تجھے دس روپیہ دیتا ہوں سو لے مجھ سے دس روپیہ تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ اس نے استقبال کا وعدہ کیا ہے بلکہ یہ کہا جائے گا کہ یہ سب کارروائی حال میں ہی ہوئی۔
اور دوسری آیات جو حال اور استقبال کے سلسلہ متصلہ ممتدہ پر اشتراکی طور پر مشتمل ہیں ان کی نظیر ذیل میں پیش کرتا ہوں۔(۱) پہلی یہ آیت ۳ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں اور کریں گے ہم ان کو اپنی راہیں دکھلا رہے ہیں اور دکھلائیں گے- صاف ظاہر ہے کہ اگر اس جگہ مجرد استقبا ل مراد لیا جائے تو اس سے معنے فاسد ہوجائیں گے اور یہ کہنا پڑے گا کہ یہ وعدہ صرف آئندہ کیلئے ہے اور حال میں جو لوگ مجاہدہ میں مشغول ہیں یا پہلے مجاہدات بجا لاچکے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی راہوں سے بے نصیب ہیں۔ بلکہ اس آیت میں عادت مستمرہ جاریہ دائرہ میں الازمنۃ الثلثہ کا بیان ہے جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہماری یہی عادت ہے کہ مجاہدہ کرنے والوں کو اپنی راہیں دکھلادیا کرتے ہیں۔ کسی زمانہ کی خصوصیت نہیں بلکہ سنت مستمرہ دائرہ سائرہ کا بیان ہے جس کے اثر سے کوئی زمانہ باہر نہیں۔
(۲) دوسری یہ آیت ۴ یعنی خدا مقرر کرچکا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب ہوتے رہیں گے- یہ آیت بھی ہر ایک زمانہ میں دائر اور عادت مستمرہ الٰہیہ کا بیان کررہی ہے۔ یہ نہیں کہ آئندہ رسول پیدا ہوں گے اور خدا انہیں غالب کرے گا۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی زمانہ ہوحال یا استقبال یا گزشتہ سنت اللہ یہی ہے کہ رسول آخر کار غالب ہی ہوجاتے ہیں۔
(۳) تیسری آیت یہ ہے۔