حضرؔ ت اقدس مرزا صاحب
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نَحْمَدَہ‘ وَنُصَلِّی عَلٰی رَسُوْلِہ الْکَرِیْم
۱۔ اما بعد چونکہ مولوی محمد بشیر صاحب نے اس عاجز سے سلسلہ بحث کا جاری کر کے بارادہ اثبات حیات حضرت مسیح ابن مریم ؑ ایک طولانی تقریر لکھی ہے اس لئے میرے پر بھی واجب ہوا کہ اظہار حق کی غرض سے اس کا جواب لکھوں۔
سو پہلے میں صفائی بیان کیلئے اس قدر لکھنا مناسب سمجھتا ہوں کہ جیسا کہ حضرت مولوی صاحب موصوف کا خیال ہے یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے کہ مسئلہ وفات حیات مسیح میں بار ثبوت اس عاجز کے ذمہ ہو یہ طے شدہ بات ہے کہ دعویٰ کا ثبوت مدعی کے ذمہ ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب کسی کی وفات یا حیات کی نسبت جھگڑا ہو تو مدعی اس کو قرار دیا جائے گا جو امور مسلّمہ فریقین کو چھوڑ کر ایک نئی بات کا دعویٰ کرے مثلاً یہ بات فریقین میں مسلم ہے کہ عام قانون قدرت خدا تعالیٰ کا یہی جاری ہے کہ اس عمر طبعی کے اندر اندر جو انسانوں کیلئے مقرر ہے ہریک انسان مر جاتا ہے اور خدا تعالیٰ نے بھی قرآن کریم کے کئی مواضع میں اس بات کو بتصریح بیان کیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ۲ یعنی تم پر دو ہی حالتیں وارد ہوتی ہیں ایک یہ کہ بعض تم میں سے قبل از پیرانہ سالی فوت ہوجاتے ہیں اور بعض ارذل عمر تک پہنچتے ہیں یہاں تک کہ صاحب علم ہونے کے بعد محض نادان ہوجاتے ہیں۔ اب اگر خلاف اس نص صریح کے کسی کی نسبت یہ دعویٰ کیا جائے کہ باوجود اس کے کہ عمر طبعی سے صدہا حصے زیادہ اس پر زمانہ گذر گیا مگر وہ نہ مرا اور نہ ارذل عمر تک پہنچا اور نہ ایک ذرہ امتداد زمانہ نے اس پر اثر کیا تو ظاہر ہے کہ ان تمام امور کا اس شخص کے ذمہ ثبوت ہوگا جو ایسا دعویٰ کرتا ہے یا ایسا عقیدہ رکھتا ہے کیونکہ قرآن کریم نے تو کسی جگہ انسانوں کیلئے یہ ظاہر نہیں فرمایا کہ بعض انسان ایسے بھی ہیں جو معمولی انسانی عمر سے صدہا درجہ زیادہ زندگی بسر کرتے ہیں اور زمانہ ان پر اثر کر کے ان کو ارذل عمر تک نہیں پہنچاتا اور ننکسہ فی الخلقکا مصداق نہیں ٹھہراتا پس جب کہ یہ عقیدہ ہمارے آقا و مولیٰ کی عام تعلیم سے صریح مخالف ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جو شخص اس کا مدعی ہو ثبوت اسی کے ذمہ ہے۔ غرض حسب تعلیم قرآنی عمر طبعی کے اندر اندر مرجانا اور زمانہ کے اثر سے عمر کے مختلف حصوں میں گوناگوں تغیرات کا لحا ظ ہونا یہاں تک کہ