میںؔ پورا لینا کہتے ہیں اور توفّی کا استعمال اخذ تام و قبض لغت سے ثابت ہے قاموس میں ہے واوفی علیہ اشرف وفلانا حقہ اعطاہ وافیا توفاہ واوفاہ فاستوفاہ و تو فاہ اور صحاح میں ہے اوفاہ حقہ ووفاہ بمعنی ای اعطاہ حقہ وافیا و استوفی حقہ و توفّاہ بمعنًی۔ مصباح المنیر میں ہے وتوفیتہ واستوفیتہ بمعنیً ۔مجمع البحار میں ہے واستوفیت حقِّی ای اخذتہ تاما۔ صراح میں ہے۔ ایفاء گزار دن حق کسے بتمام ویقال منہ اوفاہ حقہ ووفاہ استیفاء۔ تو فی تمام گرفتن حق۔ اور قسطلانی میں ہے التوفی اخذ الشیء وافیاوالموت نوع منہ انتہٰی ۔اور دوسرے معنے مجازی انامت ہیں جن کو اردو میں سلانا کہتے ہیں اور تو فیبمعنی انامت قرآن مجید سے ثابت ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورہ زمر میں ۱؂ اور فرمایا سورہ انعام میں ۲؂ ا ور قسم دوم کا جواب بعد تسلیم عمومات کے یہ ہے کہ آیت جو قطعی الثبوت و قطعی الدلالۃ ہے ان آیات کی مخصص واقع ہوئی ہے اور قسم سوم کا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض تسلیم کیا جاوے کہ الفاظ فی نفسہا ان معانی کے بھی متحمل ہیں جو جناب مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں لیکن آیت جو قطعی الثبوت وقطعی الدلالۃ ہے ان احتمالات کو ردکرتی ہے لہٰذا وہ معانی باطل ہوئے صحیح معانی ان آیات کے وہ ہیں جو تفاسیر معتبرہ میں مذکور ہیں اور وہ موافق ہیں آیت کے اور جواب تفصیلی ان آیات کا جن کو مرزاصاحب نے واسطے ثبوت وفات پیش کیا ہے ازالۃ الاوہام کے جواب میں انشاء اللہ بہ بسط بسیط لکھا جاوے گا۔ واخر دعوانا ان الحمدللہ رب العلمین والصلوٰۃ والسلام علی خیر خلقہ محمد وآلہ وصحبہ وسلم۔ ۱۹ ربیع الاول ۱۳۰۹ ہجری روز جمعہ محمد بشیر عفی عنہ