ہےؔ موافق اس آیت کے جو احادیث صحیحہ کی طرف رجوع کی گئی تو بکثرت اس باب میں احادیث صحیحہ موجود ہیں جن کا تو اتر جناب مرزا صاحب نے ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۵۵۷ میں تسلیم فرمایا ہے ان میں سے حدیث متفق علیہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہے قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکما عدلا فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الجزیۃ ویفیض المال حتی لایقبلہ احد حتی تکون السجدۃ الواحدۃ خیرا من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرۃ فاقرءُ وا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ اآایۃ معنے حقیقی ابن مریم کے عیسیٰ بن مریم ہیں اور صارف یہاں کوئی موجود نہیں بلکہ آیت اس معنی کی تعیین کررہی ہے پس نزول عیسیٰ علیہ السلام متعین ہوگیا۔ اس سے ظاہر یہی ہے کہ وہ زندہ ہیں ابن کثیر میں ہے ۔وقال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا احمد بن عبدالرحمن حدثنا عبداللہ بن جعفر عن ابیہ حدثنا الربیع بن انس عن الحسن انہ قال فی قولہ تعالی انی متوفیک یعنی وفاۃ المنام رفعہ اللّٰہ فی منامہ قال الحسن قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للیھود ان عیسٰی لم یمت وانہ راجع الیکم قبل یوم القیمۃ۔ یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن آیت اس کی صحت کی عاضد ہے یہ اخیر چار آیات اگرچہ ہر واحد ان میں سے بنفسہا دلیل قطعی حیاتِ مسیح علیہ السلام پر نہیں ہے مگر تاہم بہ نسبت ان تیس آیات کے جو جناب مرزا صاحب نے ازالۃ الاوہام میں واسطے اثبات وفات مسیح علیہ السلام کے لکھی ہیں ۔یہ آیات قوی الدلالت حیاتِ مسیح پر ہیں۔ باقی رہا یہ امر کہ جناب مرزا صاحب نے تیس آیات واسطے اثباتِ وفات مسیح علیہ السلام کے لکھی ہیں سو ان کا جواب اجمالی یہ ہے کہ یہ آیات تین قسم کی ہیں اول وہ جن میں لفظ تو فی بالتخصیص حضرت مسیح کی نسبت واقع ہوا ہے۔ دوم وہ آیات جو عموماً سب انبیاء گزشتہ کی وفات پر دلالت کرتی ہیں سوم وہ آیات کہ نہ ان میں حضرت مسیح کی وفات کا خصوصاً ذکر ہے نہ عموماً صرف جناب مرزا صاحب نے ان سے محض اجتہاداً استنباط وفات کیا ہے قسم اول کا جواب یہ ہے کہ بعض فرض و تسلیم اس کے لفظ توفّٰی کے معنے حقیقی موت و قبض روح کے ہیں اور دوسرے معنے مجازی ہیں ہم کہتے ہیں کہ آیۃ ۱؂ سے جو قطعی الثبوت و قطعی الدلالۃ ہے حیات حضرت مسیح علیہ السلام کی ثابت ہوگئی تو اب یہ آیت صارف ہوگئی آیات مذکورہ کی معنی حقیقی سے اس لئے آیات تو فّٰی معنی مجازی پر محمول کی جاویں گی اور وہ معنی مجازی جو یہاں مراد ہوسکتے ہیں وہ اخذ تام و قبض ہے جس کو اردو