وفی ھذہ الآیۃ نصّ فی انہ علیہ الصلٰوۃ والسلام سینزل الی الارض۔ بیضاوی میں ہے۔ وبہ استدل علی انہ سینزل فانہ رفع قبل ان اکتھل۔جلالین میں ہے یفید نزولہ قبل الساعۃ لانہ رفع قبل الکھولۃ معالم میں ہے وقیل للحسین بن الفضل ھل تجدنزول عیسٰی فی القرآن قال نعم قولہ وکھلا وھولم یکتہل فی الدنیا وانما معناہ وکھلا بعد نزول من السماء انتہٰی۔ یہ آیت اگرچہ فی نفسہا قطعیۃ الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے مگر بانضمام آیہ ۱ کے قطعی الدلالۃ ہوجاتی ہے اور اس بنا پر ایک حسن اس آیت میں یہ ہوتا ہے جیسا کہ کلام فی المہد ایک آیت اور معجزہ ہے ایسا ہی کلام فی الکہولۃ معجزہ ٹھہرتا ہے کیونکہ اس زمان دراز تک جسم کا بغیر طعام و شراب کے زندہ رہنا اور اس میں کچھ تغیر نہ آنا خارق عادت ہے ورنہ کلام فی الکہولۃ تو سب ہی کہول کیا کرتے ہیں حضرت مسیح کا اس میں کیا کمال ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے فہرست نعم جلیلہ میں ذکر فرمایا ہے۔
دلیل سوم۔ سورہ نساء میں ہے ۔ ۲ یہ آیت بھی فی نفسہا اگرچہ قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے مگر ظاہر اس سے رفع الروح مع الجسد ہے کیونکہ ماقتلوہ اول و ثانی اور ماصلبوہ کے ضمیر منصوب کا مرجع تو قطعاً روح مع الجسد ہے پس یہ امر دال ہے اس پر کہ مرجع رفعہ کے ضمیر منصوب کا بھی روح مع الجسد ہے علی الخصوص جب آیت اس کے ساتھ ضم کی جاوے تو یہ بھی قطعی الدلالت ہوجاتی ہے۔ دلیل چہارم۔ سورہ زخرف میں ہے ۳ یہ آیت بھی فی نفسہا اگرچہ قطعی الدلالۃ حیات مسیح پر نہیں ہے مگر ظاہر یہی ہے کیونکہ ارجاع ضمیر انہ کا طرف قرآن مجید کے بالکل خلاف سیاق و سباق ہے پس ضرور مرجع عیسیٰ علیہ السلام ہوئے اب یہاں تین احتمال ہیں یا حدوث مقدر مانا جاوے یا ارادہ معجزات یا نزول اول باطل ہے اس لئے کہ ہمارے آنحضرت صلعم کا حدوث علامت قریبہ قیامت کے ہے جیسا کہ حدیث صحیح میں وارد ہے بعثت انا والساعۃ کہاتین پس حضرت عیسی علیہ السلام کی تخصیص کی کوئی وجہ نہیں اور ایسا ہی احتمال دوم بھی باطل ہے کیونکہ معجزات سب دلالت علیٰ قدرۃ اللہ تعالیٰ میں برابر ہیں تخصیص معجزات عیسویہ کی کیا ہے پس متعین ہوا کہ مراد نزول ہے خاص کر جب کہ آیت جو قطعی الدلالۃ ہے اور احادیث صحیحہ بخاری و مسلم اس کی تفسیر واقع ہوگئی ہیں تو اس حیثیت سے یہ آیت بھی قطعی الدلالت حیات مسیح پر ہوگئی دلیل پنجم آیت ۴