مستقبل سے وابستہ کرتا ہے۔ دوم یہ کہ اس تعمیم کے موافق آپ کے معنی اول جو ازا لۃ الاوہام میں لکھے گئے ہیں بھی باطل ہوئے جاتے ہیں کیونکہ آپ کے نزدیک لفظ اہل کتاب کا آیت موصوفہ میں ان سب اہل کتاب کو بھی شامل ہے جو مسیح کے وقت میں ان کو صلیب پر چڑھانے سے پہلے موجود تھے حالانکہ ان کا بیان مذکورہ بالا پر ایمان رکھنا قبل اس کے کہ وہ اس پر ایمان لاویں کہ مسیح اپنی طبعی موت سے مر گیا غیر متصور ہے اور ایسا ہی آپ کے دوسرے معنے بھی باطل ہوئے جاتے ہیں۔ وھٰذا غیر خفی علی من لہ ادنی تامل۔ اعتراض دوم احادیث صحیحہ بآواز بلند پکار رہی ہیں کہ مسیح کے دم سے اس کے منکر خواہ وہ اہل کتاب ہیں یا غیر اہل کتاب کفر کی حالت میں مریں گے فقط جواب اس کا بدو وجہ ہے۔ اول یہ کہ آیت میں کہیں تصریح اس امر کی نہیں ہے کہ مسیح کے آتے ہی سب اہل کتاب مسیح پر ایمان لے آویں گے بلکہ آیت میں تو صرف اسی قدر ہے کہ مسیح کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ اس زمانہ کے سب اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے۔ پس ہوسکتا ہے کہ جن کفار کا علم الٰہی میں مسیح کے دم سے کفر کی حالت میں مرنا مقدر ہو ان کے مرنے کے بعد سب اہل کتاب ایمان لے آویں۔ دوم ہوسکتا ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہو نہ ایمان شرعی جیسا کہ آپ کے دونوں معنے کے موافق ایمان سے مراد ایمان شرعی نہیں ہے بلکہ یقین مراد ہے۔ اعتراض سوم۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ مسلمہ ہے کہ دجال بھی اہل کتاب میں سے ہوگا اور یہ بھی مانتے ہیں کہ وہ مسیح پر ایمان نہیں لائے گا فقط اس کا جواب بھی انہیں دو وجہوں سے ہے جو اعتراض دوم کے جواب میں لکھی گئیں اعادہ کی حاجت نہیں۔ اعتراض چہارم۔ مسلم میں موجود ہے کہ مسیح کے بعد شریر رہ جائیں گے پھر قیامت آئے گی اگر کوئی کافر نہیں رہے گا تو وہ کہاں سے آجاویں گے فقط۔ یہ اعتراض جناب مرزا صاحب کی شان سے نہایت مستبعد ہے کیا مرزا صاحب یہ نہیں خیال فرماتے کہ یقیناً دنیا میں ابتداءً ایک ایسا زمانہ بھی ہوچکا ہے کہ کوئی کافر نہ تھا پھر یہ کفار جو اب تک موجود ہیں کہاں سے آگئے جیسے یہ کفار ہوگئے ایسا ہی بعد عیسیٰ علیہ السلام کے بھی ہوجائیں گے۔ دلیل دوسری یہ آیت سورہ آل عمران کی ہے۔ ۱؂ ا س آیت سے علماء نے استدلال حیات مسیح پر کیا ہے تفسیر ابو السعود میں ہے و بہ استدل علی انہ علیہ السلام سینزل من السماء لما انہ علیہ السلام رفع قبل التکھل قال ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ ارسلہ اللّٰہ تعالی وھو ابن ثلا ثین سنۃ ومکث فی رسالۃ ثلثین شہرا ثم رفع اللّٰہ تعالی الیہ تفسیر کبیر میں ہے قال الحسین بن الفضل