کا مصدر ہوا ہے کیونکہ لیومنن میں لام مکسورہ‘ لام الامر سمجھا ہے حالانکہ قرآن خواں اطفال بھی جانتے ہیں کہ قرآن مجید میں لام مفتوحہ لام تاکید ہے اور اگر یہ معنی ہیں کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے تسلیم کر لیتا ہے یعنی یہ جملہ خبر یہ ہے تو اس وقت لیؤمنن خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا ہے اس لئے یہ معنے غلط ہوئے اور وہ معنے اس آیت کے جو خاکسار نے اول بیان کئے سلف میں سے ایک جماعت کثیر اسی طرف گئی ہے ان میں سے ہیں ابوہریرہ اور ابن عباس اور ابو مالک اور حسن بصری وقتادہ و عبدالرحمان بن زید بن اسلم۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے حدثنا ابن بشار حدثنا عبدالرحمن عن سفیان عن ابی حسین عن سعید بن جبیر عن ابن عباس وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسٰی بن مریم وقال العوفی عن ابن عباس مثل ذلک قال ابومالک فی قولہ الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال ذلک عند نزول عیسی بن مریم علیہ السلام لایبقی احد من اھل الکتاب الا اٰمن بہ وقال الضحاک عن ابن عباس وان من اھل الکتاب الالیومنن بہ قبل موتہ یعنی الیہود خاصۃ وقال الحسن البصری یعنی النجاشی و اصحابہ رواھما ابن ابی حاتم وقال ابن جریر حدثنی یعقوب حدثنا ابن علیۃ حدثنا ابورجاء عن الحسن وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسٰی وانہ لحیٌّ الآن عند اللہ و لکن اذا نزل آمنوا بہ اجمعون و قال ابن ابی حاتم حدثنا ابی حدثنا علی بن عثمان اللاحقی حدثنا جریریۃ بن بشیر قال سمعت رجلا قال للحسن یا ابا سعید قول اللہ عزّوجل وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ قال قبل موت عیسٰی ان اللہ رفع الیہ عیسٰی وھو باعثہ قبل یوم القیٰمۃ مقاماً یومن بہ البرو الفاجروکذا قال قتادۃ وعبدالرحمٰن بن زید بن اسلم وغیر واحد وھذا القول ھو الحق کما سنبینّہ بعد بالدلیل القاطع انشاء اللہ و بہ الثقۃ وعلیہ التکلان انتہٰی۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا اس طرف جانا حدیث صحیحین سے ظاہر ہے مخفی نہ رہے کہ جناب مرزا صاحب نے اس معنی پر جس کو ہم نے صحیح اور حق کہا ہے۔ ازالۃ الاوہام کے صفحہ ۳۶۸۔ اور صفحہ ۳۶۹ میں چار اعتراض کئے ہیں ان سب کا جواب مسکت بفضلہ تعالیٰ ہمارے پاس موجود ہے۔ اعتراض اول آیت موصوفہ بالا صاف طور پر فائدہ تعمیم کا دے رہی ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب کے لفظ سے تمام وہ اہل کتاب مراد ہیں جو مسیح کے وقت میں یا مسیح کے بعد برابر ہوتے رہیں گے اور آیت میں ایک بھی ایسا لفظ نہیں جو آیت کو کسی خاص محدود زمانے سے متعلق اور وابستہ کرتا ہو۔ فقط جواب اس کا بدو وجہ ہے اول یہ کہ آیت میں نون تاکید ثقیلہ موجود ہے جو آیت کو خاص زمانہ