تصرؔ یح امر مذکور کی ہو تو میں اپنے اس مقدمہ کو غیر صحیح تسلیم کر لوں گا بعد اس تمہید کے میں کہتا ہوں کہ لفظی ترجمہ اس آیت کا یہ ہوا اور نہیں ہو گا اہل کتاب میں سے کوئی مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ حضرت عیسیٰ کے پہلے مرنے حضرت عیسیٰ سے اور حاصل ترجمہ یہ ہے کہ آئندہ زمانے میں ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ سب اہل کتاب اس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے مرنے سے پہلے ایمان لاویں گے یہی ایک معنی اس آیت کے موافق محاورۂ عرب و قواعد نحو اور محاورہ کتاب و سنت کے صحیح ہیں اور اس کے ماعدا جتنے معنے ہیں سب غلط اور باطل ہیں کیونکہ کسی معنی کی بنا پر لیومنن کا لفظ خالص استقبال کیلئے نہیں باقی رہتا وہ چار معانی ہیں۔ اول وہ جو عامہ تفاسیر میں منقول ہے کہ موتہ کے ضمیر کتابی کی طرف عائد ہے اور معنے یہ ہیں کہ نہیں کوئی اہل کتاب میں سے مگر البتہ ایمان لاتاہے حضرت عیسیٰ پر اپنے مرنے سے پہلے یعنی نزع روح کے وقت اس تقدیر پر لیومنن کا خالص استقبال کیلئے نہ ہونا ظاہر ہے اس لئے یہ معنے باطل ہیں۔ دوسرے معنے وہ ہیں جو جناب مرزا صاحب نے کشفی طور پر ازالہ اوہام کے صفحہ ۳۷۲ میں لکھے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ ہر اہل کتاب ہمارے اس بیان مذکورہ بالا پر جو ہم نے اہل کتاب کے خیالات کی نسبت ظاہر کیا ہے ایمان رکھتا ہے قبل اس کے کہ وہ ایمان لاوے کہ مسیح اپنی موت سے مر گیا فقط۔ یہ معنے بھی بسبب اس کے کہ اس تقدیر پر لیؤمنن خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا ہے باطل ہیں اور اس معنے کشفی کے بطلان کے اور بھی وجوہ ہیں مگر ان کو اس بحث سے علاقہ نہیں ہے اس لئے ہم ان کو یہاں بیان نہیں کرتے انشاء اللہ تعالیٰ ان وجوہ کا ذکر ازالہ اوہام کے رد میں بہ بسط بسیط کیا جائے گا۔ تیسر ے وہ معنی ہیں جو جناب مرزا صاحب نے ازا لۃ الاوہام کے صفحہ ۳۸۵ میں لکھے ہیں وہ یہ ہیں کہ مسیح تو ابھی مرا بھی نہیں تھا کہ جب سے یہ خیالات شک و شبہ کے یہود و نصاریٰ کے دلوں میں چلے آتے ہیں فقط۔ یہ معنی بھی اسی وجہ سے باطل ہیں کہ لیؤمنن اس تقدیر پر خالص استقبال کیلئے نہیں رہتا بلکہ ماضی کیلئے ہوجاتا ہے چوتھے وہ ہیں جو مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب سیالکوٹی مرید مخلص مرزا صاحب نے القول الجمیل کے صفحہ ۲۸ میں لکھے ہیں وہ یہ ہیں اور ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کیلئے ضروری ہے کہ اس بات کو اپنے مر جانے کے پیشتر ہی تسلیم کرے فقط۔ اس عبارت کا مطلب اگر یہ ہے کہ ان اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اس بات کو اپنے مرنے سے پہلے ہی تسلیم کرے یعنی یہ جملہ انشائیہ ہے جیسا کہ بعض عبارات القول الجمیل اس پر قرینہ ہے تو اس معنے کے غلط ہونے کی یہ وجہ ہے کہ صاحب القول الجمیل اس مقام پر غلط فاحش