مباؔ حثہ مابین حضرت اقدس ؑ مرزا غلام احمدؐ قادیانی مسیح موعودؑ اور مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی دہلی میں پرچہ نمبر(۱) مولوی محمد بشیر صاحب بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علی عبادہ الذین اصطفٰیامابعد ارباب علم و دین پر مخفی نہ رہے کہ اصل دعویٰ جناب مرزا صاحب کا مسیح موعود ہونے کا ہے لیکن جناب ممدوح کے محض اصرار بلیغ سے مباحثہ حیات و وفات مسیح علیہ السلام میں منظور کیا گیا ہے اور اس مسئلہ میں بھی اصل منصب جناب مرزا صاحب کا مدعی کاہے لیکن صرف جناب ممدوح کے اصرار سے ہی یہ بھی قبول کیا گیا کہ پہلے یہ عاجز اَدِلَّہ حیات مسیح علیہ السلام تحریر کرے اور اس میں بحث صعود و نزول وغیرہ کا خلط نہ کیا جائے فاقول بحول اللّٰہ و قوتہ وما توفیقی الا باللّٰہِ علیہ توکلت والیہ اُنیب۔جاننا چاہئے کہ دلیلیں حیات مسیح علیہ السلام کی پانچ آیتیں ہیں۔ دلیل اول یہ ہے۔قال اللّٰہ تعالی فی سورۃ النّساء ۱؂ وجہ استدلال کی یہ ہے کہ لیؤمنن میں نون تاکید کا آیا ہے اور نون تاکید مضارع کو خالص استقبال کے لئے کر دیتا ہے ۔ ماضی اور حال کی تاکید کے لئے نون نہیں آتا ہے ازہری تصریح میں لکھتا ہے۔ ولایوکد بہما الماضی لفظًا و معنی مطلقًا لا نہما یخلصان مدخو لہما للاستقبال وذالک ینافی المضی انتہی اور دوسری جگہ لکھتا ہے