واشکو عدوًا لا یزال بمرصد ۱۳۵ یراقبنی فیما اقول وما انبی مداج یھیج الشر من ای وجھۃ ۱۳۶ ویرشقنی ارشاق من ریع بالسَلْبٖ یحرق انیابًا علیّ عداوۃ ۱۳۷ کانی اوجعت المنافق بالغَصْبٖ بمقدمک المیمون طابت بشارۃ ۱۳۸ واسفرت الدنیا لکل اخی لُبّٖ وزالت بھا الاتراح عن قلب مکمدٍ ۱۳۹ وقام بہٖ داعی المسرّۃ و الرَّحْبٖ فلازلت للاسلام عونا وعزّۃ ۱۴۰ یھابک من یأْباہ فی الشرق والغرب ۱۳۵۔ میں ایک دشمن کی شکایت کرتاہوں جو برابر گھات میں لگا ہوا میرے اقوال کو تاکتا رہتاہے۔ ۱۳۶ ۔ وہ ایک منافق ہے جو ہر طرح شر اٹھاتا رہتا ہے اور مجھے یوں تیر مارتا ہے جیسے وہ شخص جسے اسکا اسباب لوٹنے کی دھمکی دیجاوے۔ ۱۳۷ ۔ وہ مارے بغض کے مجھ پر دانت پیستا رہتا ہے جیسے میں نے اسکاکچھ چھین کر اسے ستایاہے۔ ۱۳۸ ۔ حضور کے قدوم مبارک سے دنیا بشارت پا کرخوش ہوگئی ہے اور عقلمندوں کو روشن نظرآنے لگی ہے۔ ۱۳۹۔ اس بشارت کو پاکر آزردہ دلوں کے رنج دور ہو گئے اور بجائے اس کے دلوں میں خوشی اور فراخی کے ولولے پیدا ہوگئے۔ ۱۴۰ ۔ میری دعاہے کہ حضور اسلام کے مددگار اور باعث عزّت رہیں ! او رمنکرانِ اسلام شرق و غرب سے آپ سے خوف کھاتے رہیں۔