ولاؔ یجوز تاکیدہ بھما اذا کان منفیا اوکان المضارع حالاکقراء ۃ ابن کثیر لاقسم بیوم القیمۃ۔ و قول الشاعر یمینا لا بغض کل امرئ یزحزف قولا ولا یفعل۔ فاقسم فی الاٰیۃ والبغض فی البیت معناھما الحال لدخول اللّام علیہما وانما لم یؤکد ا بالنون لکونھا تخلص الفعل للاستقبال وذلک ینافی الحال انتہی۔ فوائد ضیائیہ میں ہے تختص ای النون بالفعل المستقبل فی الامر و النھی والاستفہام والتمنی والعرض والقسم وانما اختصت ھذہ النون بھذہ المذکورات الدّالۃ علی الطلب دون الماضی والحال لانہ لایؤکد الا مایکون مطلوبا انتہی۔ عبدالحکیم تکملہ میں لکھتے ہیں لان النون تخلص المضارع للاستقبال فکرھوا الجمع بین حرفین لمعنی واحد فی کلمۃ واحدۃ ۔مغنی میں ہے ولایوکد بھما الماضی مطلقا و اما المضارع فان کان حالا لم یوکد بھما و ان کان مستقبلا اکدبھما وجوبا فی نحو واللہ لاکیدن اصنامکم انتہٰی۔ شیخ زادہ حاشیہ بیضاوی میں لکھتا ہے۔ و اعلم ان الاصل فی نون التاکید ان تلحق باٰخر فعل مستقبل فیہ معنی الطلب کالامروالنہی والاستفہام والتمنی والعرض نحواضربن زیدا ولاتضربن وھل تضربنہ ولیتک تضربن مثقلۃ ومخففۃ واختص بما فیہ معنی الطلب لان وضعہ للتاکید و التاکید انما یلیق بما یطلب حتی یوجد ویحصل فیغتنم ھوبوجدان المطلوب ولایلیق بالخبرالمحض لانہ قد وجد وحصل فلایناسبہ التاکید واختص بالمستقبل لان الطلب انما یتعلق بمالم یحصل بعد لیحصل وھو المستقبل بخلاف الحال والماضی لحصو لھما والمستقبل الذی ھو خبر محض لا تلحق نون التاکید باٰخرہ الا بعد ان یدخل علی اول الفعل مایدل علی التاکید کلام القسم وان لم یکن فیہ معنی الطلب لان الغالب ان المتکلم یقسم علی مطلوبہ انتہٰی ۔اور ایسا ہی بلا خلاف تمام کتب نحو میں مرقوم ہے۔ قرآن مجید اور سنت مطہرہ میں بھی نون بہت مواضع میں خاص مستقبل کیلئے آیا ہے اور ماضی اور حال کیلئے ایک جگہ بھی پایا نہیں جاتا۔ اس مقام پر چند آیات نقل کی جاتی ہیں سورہ بقر میں ہے ۱؂ ا ور بھی اسی میں ہے ۲؂ اور بھی اسی میں ہے ۳؂ سورہ آل عمران میں ہے ۴؂ اور بھی اسی میں ہے