واشقٰی عباد اللہ من صار جاحدًا ۱۲۵ لفضلک واستھواہ ابلیس فی الشقبٖ فاخزاہ فی الدنیا وسود وجھہ ۱۲۶ وقدامہ یوم الندامۃ والسَحْبٖ دعانی الی ذاالنظم صدق مودّۃٍ ۱۲۷ وفرط اشتیاق کان مستوطن القلبٖ فھاک امام المؤْمنین حدیقۃ ۱۲۸ منضرۃ الاشجار مخضرۃ القضبٖ ودونک منی روضۃ مستطابۃ ۱۲۹ سقاھا الحجٰی سقی السحائب لا الغربٖ یروق عیون الناظرین ابتسامھا ۱۳۰ اذا سرحت فیہا قلوبھم یطبی قوافٍ تزید السامعین اشتیاقکم ۱۳۱ اذا اُنشدوھا نحوا عتابکم یصبی احن الیکم والدیار بعیدۃ ۱۳۲ وشوق لقاء ینجد العین بالسکبٖ تھز النسیم القلب حین ھبوبھا ۱۴۴ کھزّلسانٍ بالثنا دایما رَطبٖ سقام وبعدثم عذرووحدۃ ۱۳۴ فکیف الحدور السہل فی المرتقی العَصبٖ ۱۲۵ ۔بڑا ہی شقی بندہ ہے جو تیری فضیلت کا منکر ہوا ۔ اور اسے شیطان نے وادئ ضلالت میں پھینک دیا۔ ۱۲۶۔ خدا نے اسے دنیا میں ذلیل اور رو سیاہ کر دیا او رعاقبت میں اسکے سامنے دخول جہنم اورندامت ہے۔ ۱۲۷۔ میں نے یہ قصیدہ مدحیہ محض اخلاص محبت اورکمال اشتیاق سے جو میرے دل میں جاگزین ہے لکھا ہے۔ ۱۲۸ ۔ اے امام المومنین!لیجئے یہ ایک باغ ہے جس کی شاخیں اور درخت سب سر سبز ہیں۔ ۱۲۹۔ میری طرف سے یہ باغ عجیب تحفہ قبول فرمائیے۔ یہ باغ سدا سرسبز رہنے والا ہے اور کبھی خزاں کامنہ نہ دیکھے گا۔ ۱۳۰۔ اس کی شگفتگی ناظرین کی آنکھوں کو خنک کر دیتی ہے اور جب انکے دل اس میں سیر و تفریح کریں تو انہیں خوش و خرم کرتی ہے۔ ۱۳۱۔ یہ ایسے اشعار ہیں کہ جب پڑھے جائیں گے تو سامعین کے دلوں میں اشتیاق پیدا کرینگے پھر وہ شوق حضورکی آستان بوسی کی طرف انھیں مائل کرے گا۔ ۱۳۲۔ میں آپ کا مشتاق ہو رہا ہوں۔ ملک بہت دور ہے اور شوق ملاقات میں میری آنکھیں آنسو برسا رہی ہیں۔ ۱۳۳۔ جب نسیم چلتی ہے میرے دل کو جنبش دے جاتی ہے جسطرح میری زبان حضورکی مدح و ثنا میں ہمیشہ حرکت کرتی رہتی ہے۔ ۱۳۴۔ بیماری۔ دوری۔ عذر اور تنہائی اور اس پر دشوارگزار بیابان اورکٹھن منزلیں میری راہ میں حائل ہیں۔