ھوؔ النعمۃ العظمٰی من اللہ فاشکروا
۱۱۵
و لا تکفرواھا بالتمرد و النکبٖ
ھو الغیث فیکم فاقدروا حق قدرہ
۱۱۶
یروی البرایا کالصبیب من السحبٖ
ھو النور بین الرشد و الغی فی الوری
۱۱۷
بہ تنجلی سود الاساء ۃ والذنبٖ
وللہ عینا من راٰہ فانہ
۱۱۸
علی شرف اعلی وقد فاز بالحِسبٖ
عجبت لمن لم یستبن بعد امرہ
۱۱۹
وقد بلغ الابکار فی الخدر والحجبٖ
ویاعجبی ممن اساء ظنونہ
۱۲۰
بہ وھو یھدیہم الی خالص الحبٖ
ابی اللہ الاان یزید اعتلاءَ ہ
۱۲۱
ومن یتحی ما شاء للمحو والقلبٖ
ابی اللّٰہ الا ان یضییءَ سراجہ
۱۲۲
ومن ذا الذی یطفیہ بالنفخ والحصبٖ
لحی اللہ من ولاہ بالبغي مدبرا
۱۲۳
یثیر رعاع الناس بالویل والحربٖ
لک اللہ قد ارسلت فینا مکرمًا
۱۲۴
فاھلا وسھلًا مرحبا بک یا مُحبی
۱۱۵ ۔ وہ اللہ کی طرف سے بڑی نعمت ہے۔ اسکی قدر کرو۔ سرکشی اور رو گردانی سے کفران نعمت کے ملزم نہ ہو۔
۱۱۶۔ وہ تم میں ابر رحمت ہے اس کی پور ی قدر کرو۔ یہ آسمانی باراں کی طرح مخلوقات کو سیراب کرتاہے۔
۱۱۷ ۔ وہ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے کے لئے عالم میں ایک نور ہے اسی سے بدکاریوں اور گناہوں کی تاریکی دور ہوگی۔
۱۱۸۔ مبارک ہو وہ آنکھ جس نے اسے دیکھا۔ کیونکہ اسے بڑا ہی شرف اور بڑاہی اجر حاصل ہوا۔
۱۱۹۔ مجھے اس شخص پر تعجب آتا ہے جس پر اب تک اس امام کا مشن واضح نہیں ہوا حالانکہ پردہ نشین کنواریوں تک تو یہ دعوت پہنچ گئی ہے۔
۱۲۰ ۔ اس پر تو بڑا ہی تعجب ہے جو اب تک اس پر بدظنی رکھتا ہے حالانکہ وہ تو خالص حُبِّ الٰہی کی انھیں راہ دکھاتا ہے۔
۱۲۱۔ اللہ تعالیٰ قطعی فیصلہ کر چکا ہے کہ اس امام کی عظمت وقدر بڑھے گی اور جسے خداقائم رکھنا چاہے اسے کو ن میٹ سکے یا ادل بدل کر سکے۔
۱۲۲۔ اللہ تعالیٰ ضرور اسکے چراغ کو منور رکھنے والاہے۔ کون ہے جو پھونکوں اورکنکروں سے اسے بُجھادے؟۔
۱۲۳۔ خدا کی پھٹکار اس پر جو اس سے روگرداں ہوتا اور سفلہ لوگوں کو اس کے مقابلہ کے لئے جوش دلاتاہے۔
۱۲۴۔ اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ ہو! تو ہم میں مکرّم ومعظّم بھیجا گیا ہے۔ آئیے آئیے اے فیاض کریم ہمارے سر آنکھوں پر بیٹھئے۔