وماؔ ھاجہ شیءٌ سوی حسد لہ ۱۰۵ وذلک داء لا یعالج بالطبٖ اذا بھت المرتاب عند حجاجہ ۱۰۶ تبادر للبھتان والشتم والقشبٖ ولم یدر ان اللہ ینصر عبدہ‘ ۱۰۷ علی الجاھل المرتاب والمبطل الخبٖ ومن یخذل المبعوث یخذلہ ربّہ ۱۰۸ ویجعلہ فی خلقہ عالی الکعبٖ ومن لم یعاونہ سیبک تأَسفا ۱۰۹ ویلق اثامًا بالمذلّۃ والکبٖ ھلموا عباد اللّٰہ و استمعوا لہ ۱۱۰ وقوموا جمیعًا قومۃ الجحفل اللجبٖ اعینوہ بالاموال و افدوہ بالنفوس ۱۱۱ تنجوا من الافات فی الخلف و الشجبٖ علیکم علیکم باتباع امامکم ۱۱۲ فنعم امام جاء فیکم من الربٖ یقودکم نحو الھدی فاقتدوا بہ ۱۱۳ ووالوہ بالاخلاص والصدق و الرغبٖ اتاکم ببرھان ومافیہ مریۃ ۱۱۴ فلا تبطلوہ بالمماراۃ والشغبٖ ۱۰۵ ۔ اس کی مخالفت کی اور کوئی وجہ سوائے حسد کے نہیں۔ اور اس بیماری کا علاج تو ِ طب میں بھی نہیں ۔ ۱۰۶ ۔ جب وہ اللہ کی باتوں میں شک لانے والامباحثہ میں ہارکر بغلیں جھانکنے لگا تب گالی گلوچ جھوٹ اور بہتان بولنے لگا۔ ۱۰۷ ۔ اور یہ نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ بہ مقابلہ جاہل شکی مبطل دھوکے باز کے اپنے بندہ کا ناصرہے۔ ۱۰۸۔ اصل یہ ہے کہ جس نے بھیجے ہوئے کو چھوڑا اس کو اس کا رب بھی ضرو ر چھوڑے گا اور وہ اسے خلقت میں ذلیل کرے گا۔ ۱۰۹۔ جس نے آج اسکی مدد نہ کی کل وہ افسوس کھا کر روئے گا۔اوربڑی ذلت ورسوائی کے علاوہ سخت گنہ گار ہوگا۔ ۱۱۰ ۔ آؤ ۔ اے خداکے بندو! اس کی باتیں سنو اور جرّ ار لشکر کی طرح سب کے سب اٹھ کھڑے ہو۔ ۱۱۱۔ مالوں سے اسکی مدد کرو۔ جانوں کو اس پر فدا کرو تو تم تمام دکھ درد کی آفتوں سے نجات پاؤگے۔ ۱۱۲ ۔ اس اپنے امام کی پیروی کو فرض سمجھو۔ کیونکہ رب تعالےٰ کی طرف سے یہ خوب امام تم میں آیا ہے۔ ۱۱۳۔ وہ تمہیں ہدایت کی طرف چلاتاہے اسکے پیچھے آؤ اور اخلاص صدق اور رغبت سے اسکو پیار کرو۔ ۱۱۴ ۔ تمہارے پاس واضح برہان لایا ہے جس میں شک کی گنجایش نہیں۔ اب ناحق کے جھگڑوں فسادوں سے اس کا ابطال نہ کرو۔