دعاؔ امۃ من ھٰھنا ثم ھٰھنا
۹۵
فقال سویداء القلوب لھا لَبِّی
یؤثر فی اتباعہ مایقولہ
۹۶
ویکثرھم یومًا فیومًا ولایکبی۱
ویحمدہ من شط منہ ومن دَنا
۹۷
سوی من یری فی الدین غیر اولی الاربٖ
وکم من کبیر القوم اصغی وانَّما
۹۸
حذارًا علی الدنیا ناٰی عنہ بالجنبٖ
فلم یبق الا من تعدّٰی بجھلہ
۹۹
یماری مراءً عن غوایتہ یُنَبِّیٖ
اذا قیل برز وَ اختبرہ منا ظرًا
۱۰۰
یفرویھذی بالوقاحۃ والجھبٖ
واکبر من اَغراہ نشوۃ جَھلہ
۱۰۱
بانکارہ من یدعی العلم عن کذبٖ
یمیل الی الطاغوت طورًا وتارۃ
۱۰۲
الی الرفض ثم الی النیجر الکفر کا لصَّبٖ۲
ومتبع طورًا و وقتًا مقلد
۱۰۳
وعبد النصاری مرۃ ناصرا لصلبٖ
تزبا بزی الکفر یشری بہ الھدیٰ
۱۰۴
ویبغی رضی الکفار فی سخط الربٖ
۹۵۔ اس نے قوم کو ہر سمت سے آواز دی جسے سن کر سویدائے دل نے کہا کہ اسے مان ہی لو۔
۹۶۔ آپکا کلام معجزنظام پیروؤں کے دلوں میں پور ی تاثیرکرتاہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انہیں روز افزوں ترقی نصیب ہو رہی ہے۔ تنزل نہیں۔
۹۷۔ سب ہی نزدیک و دور آپ کی مدح سرائی کرتے ہیں۔ سوائے اس بدقسمت کے جسے دین سے کوئی غرض واسطہ نہ ہو۔
۹۸۔بڑے بڑے سرداران قوم کو آپکی باتیں دل میں لگ جاتی ہیں۔ مگر پھر دنیا سے ڈرکر آپ سے الگ ہوجاتے ہیں۔
۹۹۔ اب سوائے جاہل بے اندام کے اور کوئی نہیں رہا جو ناحق کے جھگڑوں سے اپنی گمراہی کاثبوت دیتا ہے۔
۱۰۰۔ جب اسے کہو میدان میں نکل اور مناظرہ کر کے حضرت مثیل کو آزما لے تو نوک دم بھاگتا اور ناگفتنی باتیں منہ پر لاتاہے۔
۱۰۱۔ اور سب سے بڑھ کر ایک جاہل ہے جو نادانی کے نشے میں چو ر ہو کر انکارپرکھڑا اور علم کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے۔
۱۰۲ ۔ کبھی تو وہ پاگل آدمی کی طرح طاغوت کی طرف جھک پڑتا ہے۔ کبھی رافضی بن جاتا او رکبھی فرقہ ضالہ نیچریہ کا پہلو اختیار کر لیتاہے۔
۱۰۳۔ وہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے ۔ کبھی ادھر کبھی اُدھر۔ کبھی کبھی نصار ٰ ی کا غلام صلیب کا حامی بھی بن جاتاہے۔
۱۰۴ ۔ کفر کا لبا س پہنکر دین کو بیچتاہے او ر اپنے مولا کی ناراضی میں کفارکو خو ش کرناچاہتاہے۔