وتوؔ ضیحہ تجلو ظلام غوایۃ
۸۵
وماالفتح الا مفتح الفتح والغلبٖ
وکم معجزات النظم قد تبھر النھی
۸۶
تغادر من باراہ احیر من ضبّٖ
یروق عیونا حسنہا ونظامھا
۸۷
وتکسو نفوسًا کلھا نشوۃ الشربٖ
قصآئد فیہا النور والصدق والھدی
۸۸
تدل علی الاحسان والفوز بالقربٖ
تکاد النجوم الزاھرات من السما
۸۹
تخر الیہا ساجداتٍ علی التُربٖ
یلذ علی الاسماع حر کلامہ
۹۰
ولطف معان فیہ اَلْبَابَنَا یَسْبِیْ
نفیس ارانا من نفایس سرّہ
۹۱
دقایق علم لا ینال عن الکسبٖ
واعجز من اعجاز انفاسہ العدی
۹۲
وقدباء من احداہ۱ بالخسر والتَّبٖ
شیاطین انس منہ فروّا و جنّۃٍ
۹۳
کان لھم انفاسہ شھب الثقبٖ
اقر لہ الاعداء بالفضل والعلٰی
۹۴
وذل لدیہ کل ذی العزل والنصبٖ
۸۵۔ توضیح مرام گمراہی کی تاریکی کوکھول دیتی ہے۔ اور فتح اسلام تو فتح وغلبہ کی کنجی ہے۔
۸۶۔ اورآپ کی منظومات کے معجزے عقل کو حیران کردیتے اور مقابلہ کرنے والے کو سوسمار سے بھی زیادہ سراسیمہ کر ڈالتے ہیں۔
۸۷۔ ان کا حسن و نظام آنکھوں کو سرور بخشتا اورسخن فہموں کے دلوں کو سرشار بھی کر دیتا ہے۔
۸۸ ۔ قصائد میں تونور۔ صدق ۔ہدایت ۔توحید ۔ اور قرب الٰہی کے حصول کی باتیں بھری ہوئی ہیں۔
۸۹۔ کچھ عجب نہیں جو آسمان کے نورانی تارے ان قصائد کے آگے سجدہ کرنے کیلئے زمین پر آر ہیں۔
۹۰۔ آپ کالطیف کلام کانوں کو لذت دیتااور اسکے معانی کی خوبی تو ہماری دانشوں کو اسیر ہی کر لیتی ہے۔
۹۱۔ آپ کی ذات مبارک نے عجائبات اسرار الٰہیہ سے ہمیں ایسے دقائق معارف دکھلائے ہیں جو کسب سے حاصل نہیں ہو سکتے۔
۹۲۔ اپنے کلمات طیبات سے مخالفوں کو عاجز کر دیا ہے او رمعارضہ کرنیوالے کے پلّے زیاں اور وبال کے سوا کچھ نہیں پڑا۔
۹۳۔ تمام شیاطین انس و جن اُسکے ظہور سے رفو چکر ہوگئے ہیں گویاآپ کے انفاس انکے حق میں شہاب ثاقب ہو گئے۔
۹۴۔ دشمن بھی آپ کی فضیلت کا اقرارکرچکے ہیں اور بڑے بڑے صاحب اختیار لوگ بھی آپ کے سامنے سر نیچا کر دیتے ہیں۔