یباؔ یعہ من کل حزبٍ عریفہ
۷۵
علی طاعۃ الرحمٰن فے السہل والصَّعْبٖ
تراھم خضوعًا خاشعین لربّھم
۷۶
قلوبھم ملآی من الشوق والحُبّٖ
نفوع یفید الناس من نفثاتہٖ
۷۷
ویسبی قلوب الخلق من خلقہ العذبٖ
رحیم بھم کالوالد البر مشفِقٌ
۷۸
ینفس عنہم کربۃ الجھل والعُجبٖ
وبحر علوم یقذف الدرّموجہ
۷۹
الی الناس طرًا لایذود عن النَھْبٖ
یحلق اھل العلم والفضل عندہٗ
۸۰
صباحًا مساءً وھوکالبدر فی الشھبٖ
قعودًا لدیہ تسقط الطیر فوقھم
۸۱
کانھم استولت علیہم ید الرُّھبٖ
یدورون فی اخذ المکارم حولہ
۸۲
مثال النجوم الدایرات علی القطبٖ
وکم من کتاب جآء نا منہ معجب
۸۳
لہ درجات عالیات علی الکتبٖ
براھینہ تھدی البرایا و ۱ کحلہ
۸۴
یجلی عیون الشک والجھل والعَصْبٖ
۷۵۔ ہر گروہ کے شناساآدمی اس سے بیعت کرتے ہیں کہ وہ ہر حال میں راحت و رنج میں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار رہیں گے۔
۷۶۔ ان بیعت کرنیوالوں کو تم دیکھو(وہ کیسے ہیں !) وہ اپنے رب کے آگے گڑ گڑا نے والے ہیں۔ ان کے دل شوق و محبت الٰہی سے بھرپور ہیں۔
۷۷۔ وہ نفع رساں ہے۔ خلقت کو اپنے کلام سے فائدہ بخشتا ہے اور اپنے خلق شیریں سے خلقت کے دل مٹھی میں کرلیتاہے۔
۷۸۔ان پر مہربان باپ کی طرح رحیم ومشفق ہے۔ اور جہل اورخود بینی کی بلاؤں کو ان پر سے ٹالتاہے۔
۷۹۔وہ علوم کا سمندر ہے جس کی موجیں تمام لوگوں کی طرف موتی پھینکتی ہیں اور پھر لوٹنے سے کسی کو روکتا نہیں۔
۸۰ ۔ صبح و شام اہل علم و فضل اس کے گرد حلقہ کئے رہتے ہیں اور وہ ان میں ایسا ہے جیسے ستاروں میں بدر۔
۸۱ ۔ وہ اہل علم اس کے حضور میں ایسے محو ہوکر بیٹھے رہتے ہیں کہ انہیں بے جان خیال کر کے پرندے ان پر بیٹھ جاتے ہیں گویا ہیبت کا ہاتھ ان لوگوں پر غالب ہے۔
۸۲ ۔ جس طرح بنات النعش قطب کے گرد گھومتے ہیں اسی طرح یہ اہل علم تحصیل معارف کیلئے اسکے گرد گھومتے ہیں۔
۸۳۔ اسکی کئی بڑی بڑی عجیب کتابیں بھی ہمیں ملیں جنہیں اور کتابوں پر بڑی بھاری فضیلت او رترجیح ہے۔
۸۴ ۔ اسکی براہین (احمدیہ) خلقت کی ہادی ہے اور سرمہ چشم آریہ جہل شک اور تعصب کی آنکھوں کو جلا دیتا ہے۔