یضیف مساءً وافدیہ وغدوۃً ۶۵ ویدعی اباالاضیاف فی الخصب والجدبٖ تسیر الیہ الوفد من کل وجھۃ ۶۶ ویقصدہ الرّکبان رکبًا علیٰ رکبٖ حلیف التقی یھدی الانام الی التقی ۶۷ ویسعٰی لمرضاۃ المہیمن والقربٖ طبیب بامراض القلوب مُبَصرٌ ۶۸ ینقی من الاھوآء والدرن والثلبٖ مشید قصر الدین من بعد ما وھت ۶۹ اساطینہ فینا عن الثلم والشعبٖ تصدی لاصلاح المفاسد فی الوریٰ ۷۰ بمنفعۃٍ تدعوا لی السلم لا الحربٖ واذن انی قد بعثت مؤیَّدًا ۷۱ بارشاد من فی الحضر منہم وفی السَّھْبٖ یصنف فی ھذا رسایل جمّۃً ۷۲ ویرسلھا جھرًا الی العُجْم و العُرْبٖ واعلن فی الاٰفاق دعوۃ بیعۃ ۷۳ فشدوا الیہ الرحل حزبا علی حزبٖ یزفون من بَدْوٍ الیہ وحَضرۃ ۷۴ ثباتًا واشتاتًا من الشِیبِ والشبّٖ ۶۵۔ صبح و شام مہمانوں کی مہمانی میں مصروف رہتا ہے۔ اسی لئے گرانی اور ارزانی میں اسے مہمانوں کا باپ کر کے پکارا جاتاہے۔ ۶۶ ۔ہر سمت سے جماعتوں کی جماعتیں اسکے پاس آتی ہیں اور گروہ در گروہ ٹرینوں میں بھر کر اس کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔ ۶۷۔ بڑا ہی پرہیز گار اور پرہیز گاری کی راہ خلقت کو دکھانے والا۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور قرب میں کوشش کرتا رہتا ہے۔ ۶۸ ۔ دل کی بیماریوں کا طبیب۔ بڑی پہچان والا جو ہر قسم کے عیب۔ زنگ اور ُ بری خواہشوں سے پاک صاف کرتا ہے۔ ۶۹ ۔ دین کی عمارت کا مضبوط کرنیوالا۔ جب کہ رخنے پڑ پڑ کر اس کی دیواریں ڈَھینے پر آرہی تھیں۔ ۷۰ ۔ خلقت کے بگاڑوں کی اصلاح کا بیڑ ا ایسی نفع رسانی کی بنا پر اٹھایا ہے جس کی بلاہٹ صلح کی جانب ہے نہ لڑائی کی طرف۔ ۷۱ ۔ اور اشتہار پر اشتہار دیئے ہیں کہ میں تائید یافتہ از خدا آیاہوں تو کہ ان سب کو جو د یہاتوں اور شہروں میں رہتے ہیں راہ حق دکھاؤں۔ ۷۲ ۔ اس بارہ میں متعدد رسالے تصنیف کرکے علانیہ طو رپر اطراف و اکناف عالم میں بھیجتاہے۔ ۷۳ ۔ عالم میں بیعت کی دعوت کا اعلان دے دیا ہے اور جوق جوق لوگ تیاریاں کر کر اسکے قدموں میں حاضر ہوتے ہیں۔ ۷۴ ۔ دیہات سے ‘شہر سے ہر سمت سے الگ الگ اور مل مل کر زائرین اس کے حضور میں حاضر ہوتے ہیں۔