وتُھدؔ ی لہ من نفحۃٍ عنبریّۃٍ ۴۵ فَحَنَّ لذکر الشرق شوقا الی القربٖ واُلقی فیہ انّ بالشرق قدوۃ فقد جآء نا من قادیانَ مُبشِرٌ ۴۶ ۴۷ تفوّح انفاس لہ موجب الجذبٖ بخیر امام انتظرناہ مُذحقبٖ واخبر ان اضحٰی غلامٌ لاحمدٍ امامٌ ھمامٌ نائب الشرع مُلْھَمٌ ۴۸ ۴۹ خلیفتہ فینا ومنا بلاذبّٖ من اللہ رب العرش عافٍ عن الذنْبٖ مجدد دین اللّٰہ فی امّۃٍ غَوَت ۵۰ وصاحب ھذا العصر حقا بلا کذبٖ جلیل جمیل احسن الناس کُلِّھِم ۵۱ کریم المحیّا اسمر اللون ذوالرّعب وقور حلیم ربعۃ رب وفرۃٍ سمی صفی بین الوصف ماجد ۵۲ ۵۳ لہ شعر سبط کما قال من نبیّ حمید السجایا وافر العلم واللبٖ ھو الحجۃ البیضاء للہ فی الوریٰ ۵۴ کشمس الضُّحٰی قد ضآء شرقا الٰی غربٖ ۴۵۔ اور اسے بُوئے عنبر تحفہ دیتی جس سے میرے دل کو یاد شرق اور اس کے قرب کا اشتیاق لگ گیا۔ ۴۶۔ اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ مشرق میں ایک برگزیدہ ہے جسکے دم مبارک کی ہوا یہ کشش کر رہی ہے۔ ۴۷۔ اتنے میں قادیاں سے ایک بشارت دینے والا آیا کہ جس برگزیدہ امام کا تم برسوں سے انتظار کرتے تھے وہ آگیا۔ ۴۸۔ اور اس نے اطلاع دی کہ احمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کا ایک خادم و غلام ہم میں اور ہم میں سے اس کا جانشین ہوا ہے۔ ۴۹۔ مبارک امام۔ نائب شرع اور اللہ رب عرش کی طرف سے ملہم اور گناہوں سے پاک۔ ۵۰۔ بہک گئی ہوئی امت میں از سرِ نو اللہ کے دین کو بحال کرنے والا اور لا ریب اس زمانہ کا صاحب۔ ۵۱۔ صاحب جلال و جمال اور حسن میں سے لوگوں میں سے برتر ۔ کریمانہ بشرہ والا۔ گندم گوں اور صاحب رعب۔ ۵۲ ۔ باوقار۔ حلیم۔ میانہ قد اور بڑا سخی ہے۔ اسکے نیچے لٹکنے والے بال ہیں جیسے کہ جناب نبوت مآب نے خبر دی۔ ۵۳ ۔ عالی قدر۔ برگزیدہ۔ جس کی وصف عیاں ہے۔ بڑی شرافت والا۔ جس کی تمام عادتیں ستودہ ہیں۔بڑے علم و دانش والا۔ ۵۴۔ وہ جہان میں اللہ تعالیٰ کی روشن حجت ہے۔ آفتاب نیمروز کی طرح شرق و غرب میں درخشاں ہے۔ ۵۵۔ شریعت کے اسرار کاجاننے والا۔ فرض و ندب میں شریعت کے موجبات پر عمل کرنے والا۔