شرؔ قت بایذآء اللئام وشرّھم ۳۵ وفتنتھم لا بالملام ولا العَتْبٖ لعمری ھٰذی ا لنآئبات اخفھا ۳۶ اشد علی الانسان من وقعۃ القضبٖ رعی اللہ طیفا قد اتانی بفرحۃٍ ۳۷ تکاد بھا انجو من الھم والنّصبٖ فانی بلیل بین ھدءٍ ورقدۃٍ ۳۸ اذا شیم برق الشرق فی اسرع الوثبٖ اضاء ت بہ الاٰفاق والارض کلھا ۳۹ وحار البرایا فیہ خوفامن الخطبٖ ففاھوا بما شآء وا ولم یتفکّروا ۴۰ لفرط اختباط بالضجیج وبالصّخبٖ وکم مدع للعلم من فرط جھلہ ۴۱ تاوّلہ بالھرج والطعن والضربٖ تانّقتُ فیہ غیر یوم و لیلۃ ۴۲ اراقب ما یبدے الزمان من العَجْبٖ وقد اجتلی اٰثار خیر ورحمۃ ۴۳ من الجانب الشرقی مستوطن الخصبٖ وانشق من ریح الصّبا کل سُحرۃٍ ۴۴ روایح تروی القلب کا لغصن الرطبٖ ۳۵ ۔ میں خبیث طینت لوگوں کے شر و فتنہ سے نہ انکی ملامت وعتاب سے سخت تنگ آگیاہوں۔ ۳۶۔ بخدا یہ ایسی مصیبتیں ہیں کہ ان میں سے ہلکی سے ہلکی بھی انسان پرتلوار کی ضرب سے زیادہ شدید ہیں۔ ۳۷۔ اللہ تعالیٰ اس خیال کا حافظ و ناصر ہو جو میرے پاس ایسی بشارت لایا جس سے امید پڑتی ہے کہ میں غم والم سے نجات پاجاؤں گا۔ ۳۸۔ اس کا واقعہ یوں ہے کہ میں ایک رات کچھ بیداری اور نیند کے درمیان تھا کہ شرقی بجلی اس زور سے َ کوندتی نظر آئی۔ ۳۹۔ کہ ساری دنیا اسکی روشنی سے منور ہو گئی اور لوگ حیران ہو کر کہنے لگے کہ کوئی بڑاحاد ثہ واقع ہوا چاہتا ہے۔ ۴۰۔ جو کچھ کسی کے منہ میں آیا بولتا رہا۔ مگر کسی کو بھی شدت اضطراب اور شور و غل کی وجہ سے سوچنے کاموقع نہ ملا۔ ۴۱۔ بعض مدعیان علم نے بڑی جہالت سے اسکی یہ تاویل کی کہ کوئی بڑا فتنہ اور جنگ ہونے والی ہے۔ ۴۲ ۔ میں بھی اس امر میں کئی رات دن غور کرتا رہا اور منتظر تھا کہ زمانہ کیا عجیب واقعہ ظاہر کیاچاہتاہے۔ ۴۳۔ مگر میں اپنے زعم میں مبارک سرزمین مشرق کی طرف سے رحمت وخیر کے آثار کا منتظر تھا۔ ۴۴۔ اور مشرقی ہواسے ہر سحر مجھے ایسی خوشبو آتی۔ جو شاخ تر کی طرح دل کو تر و تازہ کر جاتی۔