الیؔ اللہ أشکو قارعاتٍ تصیبنی ۲۴ من الدھر قد ضاقت بہا سَعَۃ اللَّحْبٖ ومن مفترٍیرمی بانواع تھمۃ ۲۵ وتلبیس مُغتابٍ ومستہزءٍ سبّٖ وعلماء۱؂ السُّوْءِ یدعون اسوۃ ۲۶ علٰی فرط جھل بالحقائق والکتبٖ عمآئم والجبات والقمص واللحیٰ ۲۷ بھا فخرھم لکنہا الجھل لا تخبی یبکم سمع الیلمحیّ حدیثھم ۲۸ ورؤیتھم تقذی بہا عین ذی لُبّٖ فواللّہ انی ما ھجرت خلاطھم ۲۹ لغیر جفآء لیس من شیمۃ النُّحْبٖ وجھلھم المُزری بعلمی ولومھم ۳۰ ورغبتہم فیما یناسب بالوغبٖ یلوموننی انی اعاف لقآءھم ۳۱ وکیف اُلاقی جاھلا لیس من حزبی فکم بین ذی لبّ ادیب وجاھل ۳۲ وشتان بین الماجد الحرّ والوشبٖ من الجھل ان تلقی و تکرم جاھلا ۳۳ للحیتہٖ اوجبۃ او عظم السِبّٖ عذیری من الایام من جوراھلھا ۳۴ اقاموا جبال الفادحات علٰی قلبی ۲۴ ۔زمانہ کے مصائب سے جنہوں نے میرے وسیع سینہ کو بھی تنگ کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میں شکوہ کرتا ہوں۔ ۲۵ ۔ اور اس مفتری سے جو طرح طرح کی تہمتیں لگاتا ہے اور غیبت کرنیوالے کے دھوکے اور ٹھٹھہ باز گالی دینے والے سے۔ ۲۶۔ اور برے عالموں سے جو باوجود حقائق و معارف و علوم کے نہ جاننے کے اپنے تئیں نمونے سداتے ہیں۔ ۲۷۔ آجاکے انکا مایہ ناز عمامے۔ جبے ۔ قمیصیں اور ڈاڑھیاں ہیں۔ مگر ان سے جہل کیونکر چھپ جائے۔ ۲۸ ۔ سمجھدار ان کی گفتگوکو سننا گوارا نہیں کرتا۔ اور دانشمندان کے دیکھنے سے گھن کرتا ہے۔ ۲۹۔ بخدا میں نے جو ان سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تو ان کی جفا کے باعث جو شریفوں کا شیوہ نہیں۔ ۳۰ ۔ اور ان کے جہل کے باعث جس کی وجہ سے وہ میرے علم کو حقیر جانتے اور ان کی فرومائیگی اور رذیلوں کیسی عادات سے مانوس ہونے کے باعث۔ ۳۱۔ وہ مجھے ملامت کرتے ہیں کہ میں انہیں دیکھنا رو انہیں رکھتا ۔ سچ ہے۔ مَیں کیونکر جاہل سے ملوں جو میری جماعت سے نہیں۔ ۳۲ ۔ دانا۔ ادیب ۔ اور جاہل۔ نجیب و شریف اور کمینے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ۳۳ ۔ کسی جاہل سے ملنا او ر اسکی بڑی پگڑی او رلمبی ڈاڑھی او رجبہ کے باعث اس کی عزت کرنا بھی جاہل ہی کاکام ہے۔ ۳۴ ۔ زمانہ ا ور اہل زمانہ کے جورو جفا سے جو میں شکوہ کروں تو مجھے معذور رکھنا چاہیئے کیونکہ انہوں نے میرے دل پر مصائب کے پہاڑ رکھ دیئے ہیں۔