حفاؔ لتھم ابقیتُ فِیْھَا اِذَا مَضَوْا ۱۵ فامسیتُ احیی بالطغام وبالقحبٖ بُلیتُ باھل الجھل ویل لاُمھم ۱۶ مضرتھم ادھی من الذئب والکلبٖ یعادون اھل العلم والعلم کلہ ۱۷ لما ھمّھم فی لذۃ الفرج والشربٖ اقاسی الاذی من جھلھم ومراۂم ۱۸ وشدتہم بالسبع کالطعن والخلبٖ علی غربۃ فیھا ھموم و کربۃ ۱۹ و انواع اسقام و فقد اخی الحبّٖ ومالاقنی فی ذی البلاد مواسِیًا ۲۰ ولم یتیسّر اٰسیًا من فتًی نَدبٖ وحید واصناف الخُطوب ینوبنی ۲۱ تعددت البلویٰ علٰی عادم الصحبٖ ارانی مع الاوغاد یستصحبوننی ۲۲ اُعَلّم غیر الاھل کَالْقرد و الدُّبّٖ لقدضاق صدری بالاقامۃ عندھم ۲۳ وسُوء جوار العابس الوجہ ذی قطب ۱۵ ۔ وہ برگزیدے تو چلے گئے اور میں ردی سا پیچھے رہ گیا۔ اب کمینوں قلاشوں میں مجھے زندگی بسرکرنی پڑگئی۔ ۱۶ ۔جاہلوں سے میراپالا پڑگیا۔ اُن کی جننے والی پر افسوس۔ یہ تو کتوں اور بھیڑیوں سے بھی بڑھ کر موذی ہیں۔ ۱۷ ۔ فسق وفجور اور مے خواری کے دل دادہ ہیں اس لئے علم اور اہلِ علم سے بَیر رکھتے ہیں۔ ۱۸ ۔ مجھے ان کے ناحق کے جھگڑے ۔ جہالت اور گالی گلوچ سے سدا تکلیف رہتی ہے۔ ۱۹ ۔ مزیدے برآں پردیس ۔ اور پھر ہر طرح کے رنج و غم اور بیماریاں اور محبوں کا نہ ہونا۔ ۲۰ ۔ افسوس ان دیسوں میں مجھے کوئی غمخوار نہ ملا اور نہ کوئی جوانمرد فیاض غمگسار ہاتھ آیا۔ ۲۱ ۔ میں اکیلا ہوں او راس پر طرح طرح کے مصائب مجھ پر پڑگئے ہیں۔ جس کے دوست نہ ہوں اُس پر بہت سی مصیبتیں وارد ہوا ہی کرتی ہیں۔ ۲۲۔ میرا یہ حال ہو رہا ہے کہ فرومایہ لوگوں سے سنگت نصیب ہو رہی ہے۔ اور بندروں اورریچھوں کے ایسے نااہلوں کا معلم بنا ہوا ہوں۔ ۲۳ ۔ ان بدمزاج ۔ بد خو۔ ترش رو ہم نشینوں میں رہنے اور اُن کی سنگت سے میر ادل اُکتا گیاہے۔