کذؔ ا حال مسلوب القرار متیّمٍ
۶
عدیم اصطبارٍ وامق فی الھوی صلبٖ
حلیف الضنی مستوحشٍ ذی کآبۃٍ
۷
طویل اغتراب نازح الاھل والحبٖ
ھل العیش الا فی وصال احبّۃٍ
۸
نأت دارھم لکن عن الجسم لا القلبٖ
فان بعد وا عنی فان حدیثھم
۹
یخفف اشجانی وینہیٰ عن النَّحْبٖ
بلانی اللّیالی ویلھا من صروفھا
۱۰
بما صرت فیہ حآئرالفکر و اللُّبٖ
والٰھی عن الانشآء والشعربعدما
۱۱
تعوّدت شعرًا والکتابۃ من طلبیٖ
کانی ماکنت امرأ ذافطانۃ
۱۲
ولا ورثت نفسی الفصاحۃ من کعبٖ
ھموم و تنکیدٌ و اَسرٌ وغربۃ
۱۳
وفی سفھاء الناس دارٌ وھم کَرْبیٖ
فقدت سروری مذ فقدت احبتی
۱۴
کرام اُناسٍ خلّفوا الھَمَّ فی العَقْبٖ
۶۔ عاشق بے قرار ۔ سوختہ دل۔ بے صبر۔ شیدا اور عشق میں ثابت قدم کا ایسا ہی حال ہوا کرتا ہے۔
۷۔ وہ عاشق جس نے بیماری سے دائمی دوستی کا عہد باندھ رکھا ہے۔ لوگوں کی صحبت سے گریزاں ۔ دکھی۔ مدتوں کامسافر۔ اہل و عیال اور دوستوں سے جدا ہے۔
۸ ۔ زندگی کا لطف تو بس ان پیاروں کی صحبت میں ہے جن کا وطن جسم سے دور پر قلب کے نزدیک ہے۔
۹۔ وہ جو مجھ سے دور ہیں تو مضائقہ ہی کیا ہے کیونکہ ان کی پیاری باتیں میر ے دکھ درد کو ہلکا کرتی اور مجھے گریہ و زار ی سے روکتی ہیں۔
۱۰۔ مجھے جدائی کی راتوں نے سخت ستایا۔ انکی گردشوں اور حادثوں پر افسوس ! میری تو اسمیں عقل و فکر چکّر کھا گئی ہے۔
۱۱ ۔ مجھے انشاء اور شعر گوئی سے بالکل غافل کر دیا حالانکہ شعرگوئی اور اعلیٰ درجہ کا لٹریچر لکھنا تو میری عادت تھی۔
۱۲ ۔ اب میری یہ حالت ہے کہ گویا مَیں کبھی بھی زیرک شخص نہ تھا اور جیسے میں کعب (صاحب قصیدہ بانت سعاد) سے فصاحت کا وارث ہی نہیں ہوا۔
۱۳ ۔ رنج و غم ۔ گرفتاری اور سفر میں مبتلا۔ بیوقوف لوگوں میں مکان ہے جنکے ہاتھوں دُکھ سہہ رہا ہوں۔
۱۴ میری خوشی اور عیش مفقود ہوگئی جب سے اپنے پیارے دوستوں سے جدا ہوا۔ وہ کیا ہی برگزیدہ لوگ تھے۔ ان کے پیچھے میرے حصہ میں تو اب غم ہی غم ہے۔