قصیدہ
یتشرف المَنْظُوْمُ بِلَثْمِ کف الاِمام الجلیل والھامُ النّبیل المجدد الممجَّد
میرزا غُلام احمدؐ قادیانی ادام اللّٰہ تعالٰی ظلہ‘
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الی کم تمادی الھجر یلعب بالصَّبِّ
۱
وحتّام یَبْلوہ الزّمان بذا النَکبٖ
فھل للمعنّی زورۃ ینطفی بھا
۲
تباریح وَجْدٍ توقد النّار فی الجنب
الا ھل علمتم ما حملت بحبّکم
۳
واوزارہ من بعدکم انقضت صُلبی
اَبیتُ علی جمر الغضامتقرّعًا
۴
ودمعی طویل اللیل یشرح لِلغربٖ
حرامٌ علی جفنی الکری فاسألوا بہٖ
۵
نجوم الدُّجیٰ والھدبُ یجفو عن الھدبٖ
(0) نہیں معلوم ہجر کی درازی کب تک عاشق کو ستاتی رہے گی ۔ اور زمانہ اُسکو ان دکھوں میں کب تک مبتلا رکھے گا۔
(۲) کبھی دکھ سہنے والے (عاشق) کو بھی ایک بار ملاقات میسر ہو گی۔ جس سے وہ عشق کی اس جلن کو بُجھا سکے جس نے اس کے پہلو میں آگ مشتعل کر رکھی ہے۔
(۳) ہائے تمہیں کیا خبر ہے؟ کہ میں نے تمہارے عشق میں کیا کیا اُٹھایا۔ اُس کے بوجھوں نے تمہاری جدائی میں میری پیٹھ توڑ دی۔
(۴) میں چوب غضا کے دہکتے کوئلوں پر کروٹیں بدلتے بدلتے راتیں کاٹتا ہوں اور میرے آنسو رات بھر رگ آب چشم کو کھولتے رہتے ہیں۔
(۵) نیند میری آنکھوں پر حرام ہے تم اُسکی بابت تاریکی کے ستاروں سے دریافت کر لو کیامجال جو پلک سے پلک لگی ہو۔