ختمؔ کر چکا ہوں اگر مولوی صاحب کو کسی بات کے ماننے میں کچھ عذر ہو تو علیحدہ طور پر اپنے رسالہ میں درج کریں اب ان تمہیدی امور میں زیادہ طول دینا ہرگز مناسب نہیں ۔ ہاں اگر مولوی صاحب نفس دعویٰ میں جو مَیں نے کیا ہے بالمقابل دلائل پیش کرنے سے بحث کرنا چاہیں تو میں طیار ہوں اور اگر وہ خاص بحثیں جنکی درخواست اس تحریر میں کی گئی ہے پسند خاطر ہوں تو ان کیلئے بھی حاضر ہوں اَب انشاء اللہ یہ کاغذات چھپ جائیں گے اور مولوی صاحب نے جس قد ر تیز زبانی سے نا حق کو حق قرار دیا ہے پبلک کو اس پر رائے لگانے کیلئے موقعہ ملے گا۔ واٰخر دعوٰنا ان الحمد للّٰہ رب العٰلمین۔ راقم خاکسار غلام احمد ۲۹ جولائی ۱۸۹۱ء ؁ ۱؂