نہ ؔ کیا ۔لیکن خدا اسے قبول کریگا او ر بڑے زور آور حملوں سے اسکی سچائی ظاہر کر دیگا۔سو مَیں جانتا ہوں کہ میرا خدا ایسا ہی کرے گا ۔ مَیں کسی کے منہ کی پُھونکوں سے معدوم نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ جس نے مجھے بھیجا ہے میرے ساتھ ہے وہ میری حمایت کریگا ضرور حمایت کریگا۔ اور میری صداقت میرے آسمانی نشان دیکھنے والوں پر ظاہر ہے گو آپ پر ظاہر نہ ہو۔ اسی مجلس میں بعض لوگ ایسے موجودہیں کہ وہ حلف اُٹھاکر کہہ سکتے ہیں کہ آسمانی نشان انہوں نے مجھ سے دیکھے ہیں ۔ شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور بھی حلف اٹھا کر یہ شہادت دے سکتے ہیں کہ مَیں نے چھ مہینہ پہلے ان پر ایک بلا نازل ہونے کی ان کو اطلاع دی اور عین اس وقت میں کہ جب پھانسی کا حکم ان کے لئے صادر ہو چکا تھا ان کے انجام بخیر اور نجات پا جانے کی خبر استجابت دعا کے بعد ان تک پہنچا دی ۔مَیں نے سنا ہے کہ یہ خبر ہوشیارپور اور اس ضلع میں اس کثرت سے پھیل گئی کہ ہزاروں آدمی اس کے گواہ ہیں ۔پھر مَیں نے اپنی زبان سے دلیپ سنگھ کی ناکامی اور ہندوستا ن میں نہ داخل ہونے کی پیش از وقت خبر دی اور صدہا آدمیوں کو زبانی سنایا اور اشتہار شائع کیا اور پنڈت دیانند کے تین مہینہ تک فوت ہونے تک پہلے سے خبر دے دی اور اللہ جلّ شانہ‘ خوب جانتا ہے کہ شاید تین ہزار کے قریب ایسے امور میرے پر ظاہر ہوئے ہیں کہ وہ ٹھیک ٹھیک ظہور میں آگئے ہیں ۔ مَیں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ کبھی میرے مکاشفات میں غلط فہمی کی وجہ سے خطا واقع نہیں ہوتی کیونکہ اس وجہ سے تو نبیوں کے مکاشفات میں بھی کبھی کبھی خطا واقع ہوجاتی ہے بخاری کی حدیث فذھب وھلی بہتوں کو یاد ہو گی حضرت مسیح کی غلط پیشگوئی یہودا اؔ سکریوطی کی نسبت کہ وہ بارہویں تخت کا مالک ہے ابتک کسی عمدہ تاویل کے رو سے صحیح نہیں ہو سکی لیکن کثرت کی طرف دیکھنا چاہیئے جو لوگ مجھے مفتری سمجھتے ہیں اور اپنے تئیں صاف پاک اور متقی قرار دیتے ہوں مَیں ان کے مقابل پر اس طور کے فیصلہ کیلئے راضی ہوں کہ چالیس۴۰ دن مقرر کئے جائیں اور ہر ایک فریق ۱ پر عمل کر کے خدا تعالیٰ سے کوئی آسمانی خصوصیت اپنے لئے طلب کرے ۔جو شخص اس میں صاد ق نکلے اور بعض مغیبات کے اظہار میں خدا ئے تعالیٰ کی تائید اس کے شامل حال ہوجائے وہی سچا قرار دیاجائے۔ اے حاضرین اسوقت اپنے کانوں کو میری طرف متوجہ کرو کہ مَیں اللہ جلّ شانہ‘ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر حضرت مولوی محمد حسین صاحب چالیس دن تک میرے مقابل پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کر کے وہ آسمانی نشان یا اسرار غیب دکھلا سکیں جو مَیں دکھلا سکوں تو میں قبول کرتا ہوں کہ جس ہتھیار سے چاہیں مجھے ذبح کریں اور جو تاوان چاہیں میرے پر لگا دیں۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اسکو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کریگا او ر بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کردیگا۔ بالآخر میں لکھتا ہوں کہ اب میں یہ موجودہ بحث*
* اے حق پژدہ ناظرین لِلّٰہ غور کر کے اس جملہ کو اور آئندہ جملہ ’’اب ان تمہیدی امور میں ‘‘ الخ کو پڑھیئے گا اور پھر مقابلہ کیجئے گا مولوی محمد حسین صاحب کے لدھیانہ والے اشتہار کے ساتھ جس میں آپ نے کس بے باکی سے حضرت مرزا صاحب کا آئندہ اجرائے بحث سے فرار کر نا لکھ مارا ہے ۔ حضرت مرزا صاحب کا کیا مطلب اور کیا منشا ہے اور مولوی صاحب اسے کس قالب میں ڈالتے ہیں ۔ ۔ ۲ ایڈیٹر ۔