کافرؔ اور شیطان مجسم ہے ؟ کیا اکابر کا لفظ جو اس محل میں ہے یہی دلالت کر رہا ہے کہ وہ لوگ اکابر کفر تھے؟ آپ ایک خط میں محی الدین عربی کو رئیس المتصوفین اور اولیاء اللہ میں داخل کر چکے ہیں۔ وہ خط تو اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دوسرا خط ہے جس سے بھی یہی مطلب نکلتا ہے جسکو آپ نے مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم کی طرف لکھا تھا جسکی یہ عبارت ہے۔’’علم دو قسم است یکے ظاہری کہ بکسب و اکتساب ونظر و استدلال حاصل میشود دوم باطنی کہ غیب الغیب بہم مے رسد چنانچہ انبیاء علیہم السلام ومن بعدھم اولیاء کرام را حاصل بود کما قال الشیخ المحي الدین العربی فی الفتوحات وقع لی اولًا الخ فرمائیے کہ آپ نے ایسے محل میں کہ اولیاء الرحمن کے کلام کا حوالہ دینا چاہیئے تھا محی الدین عربی کا کیوں ذکر کیا؟ اگر وہ بزرگ آپ کے آزاد دل کی نسبت نعوذ باللہ شیطان مجسم تھا تو کیا آپ نے اپنے خط میں جو اپنے مرشد کی طرف لکھا تھا ایک شیطان کا حوالہ دینا تھا !ماسوا اس کے آپ کا وہ پرچہ اشاعۃ السنۃ موجود ہے مَیں اپنے پر سَو روپیہ تاوان قبول کرتا ہوں اگر منصفین اس پرچہ کو پڑھ کر یہ رائے ظاہر کریں کہ آپ نے ان اولیاء کو جنہوں نے ایسا رائے ظاہر کیا تھا کافر اور شیطان ٹھہرایا تھا اور ان کے ملہمات کو شیطانی مخاطبات میں داخل کیا تھا تو میں سَو روپیہ داخل کر دُونگا۔ آپ اپنے شائع کردہ ریویو کے منشاء سے بھاگنا چاہتے ہیں* اور ایک پرانی قوم کی عادت پر تحریفوں پر زور مار رہے ہیں وانّٰی لکم ذالک ولات حین مناص۔ قولہ۔آپ کے ان افتراؤں سے کامل یقین ہوتا ہے کہ آپ کسی الہام کے دعوے میں سچے نہیں اور جو تارو پود آپ نے پھیلا رکھا ہے وہ سب افترا ہے۔ اقول۔ مَیں آپ کی ان باتوں سے آزردہ نہیں ہوتا اور نہ کچھ رنج کرتاہوں ۔ کیونکہ جو لوگ حق کے مخالف تھے ۔ ہمیشہ ارباب حق اور اہل اللہ بلکہ انبیاء کی نسبت ایسے ایسے ہی ظن کرتے آئے ہیں حضرت موسیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ حضرت عیسیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ ہمارے سید مولیٰ کا نام مفتری رکھا گیا۔ بہت سے اولیاء کا نام مفتری رکھا گیا۔ پھر اگر میرا نام بھی آپ نے مفتری رکھ لیا تو کونسی رنج کی بات ہے ؟ ۱؂ مَیں آپ کو سچ سچ کہتا ہوں کہ میں مفتری نہیں ہوں اورخداوند کریم نے جو ہمیشہ مصلحت عباد کی رعایت رکھتا ہے مجھے حقًّا و عدلًا مامور کر کے بھیجا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے اور اب سن رہا ہے کہ اُس نے مجھے ضرور بھیجا ہے تامیرے ہاتھ پر ان خرابیوں کی اصلاح ہو جو مولویوں کی کج فہمی سے امت محمدیہ میں شائع ہو گئی ہیں اور تا مسلمانوں میں سچے ایمان کا تخم پھر نشو و نما کرے سو مَیں بفضلہ و رحمتہ ٖتعالیٰ سچا ہوں اور سچائی کی تائید کیلئے آیا ہوں اور ضرور تھا کہ میرا انکار کیاجاتا۔ کیونکہ براہین احمدیہ میں الٰہی الہام میرے حق میں یہ درج ہوچکا ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول