استنباؔ ط کیا ہے کہ اس خوف کا اظہار ضرور کلام کے ذریعہ سے ہوگا۔ چنانچہ اصول فقہ کے رُو سے سکوت بھی کلام کا حکم رکھتا ہے۔ اور آنحضرت کے صریح کلام سے بھی جو مسلم میں موجود ہے مترشح ہو رہا ہے کہ آنحضرت ابن صیاد کے دجال ہونے کی نسبت ضرور اندیشہ میں تھے۔مسلم کی دوسری حدیثیں غور سے دیکھو تاآپ پر حق کی روشنی پڑے۔
قولہ۔ ایک آپ کا افترایہ ہے کہ آپ نے رسالہ ازالہ اوہام کے صفحہ ۲۰۱ میں حدیث وامامکم کے ترجمہ میں اپنی عبارت ملا دی ۔
اقول۔مَیں کہتاہوں کہ یہ آپ کے فہم کا قصور ہے یا بحالت افہم ایک افترا ہے کیونکہ ہمیشہ اس عاجز کی عادت ہے کہ ترجمہ کی نیت سے نہیں بلکہ تفسیر کی نیت سے معنے کیا کرتا ہے مگر اپنی طرف سے نہیں بلکہ وہی کھول کر سنایاجاتا ہے جو اصل عبارت میں ہوتاہے ۔بیشک اس جگہ وامامکم کی واؤ پہلے فقرہ کی تفسیر کے لئے ہے جس وقت آپ سے یہ بحث شروع ہوگی اسوقت آپ کو قواعد نحو کے رو سے سمجھا دیاجائیگا۔ ذرا صبر کیجئے اور میری کتاب براہین احمدیہ کو دیکھئے ہمیشہ تفسیر کی طرزپر میراترجمہ ہوتاہے۔ افسوس کہ باوجود ریویو لکھنے کے ان تراجم پر آپ نے اعتراض نہیں کیا اور کسی جگہ افترانام نہ رکھا۔ اس کی اصل وجہ بجز اسکے اور کوئی نہیں کہ اس وقت آپ کی آنکھیں اور تھیں اور اَب اور ہیں۔ خدائے تعالیٰ آپ کی پہلی بینائی آپ کو بخشے۔ وھو علٰی کل شیءٍ قدیر۔ اور آپ کو یاد رہے کہ بیت المقدس یادمشق میں نزولِ عیسیٰ کا ذکر بھی محض تفسیرکے طور پر مَیں نے کیا ہے مجرّد ترجمہ نہیں ہے۔
قولہ۔آپ نے مجھے یہ الزام دینے سے کہ میرا بخاری کی حدیثوں پر ایمان ہے افترا کے طور پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مَیں کسی ایسے ملہم کو بھی مانتا ہوں کہ جو بخاری یا مسلم کی کسی حدیث کو موضوع کہیں۔
اقول ۔ بیشک آپ نے ایسے ملہم کو جو کسی صحیح حدیث کو اپنے کشف کے رو سے موضوع جانتا ہویاموضوع کو صحیح قرار دیتاہو۔ اپنی کتاب اشاعۃ السُنّۃ میں مخاطب الشیطان نہیں ٹھہرایا۔ یہ آپ کا سراسر افترااور مشت بعد ازجنگ ہے کہ اب آپ اپنی تحریر میں یہ لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک ایسا محدث شیطان کی طرف سے مخاطب ہے اور جو شخص کسی صحیح حدیث کو جو صحیحین میں سے ہو موضوع کہے نہ صرف وہ شیطان کا مخاطب بلکہ شیطان مجسم ہے آپ نے اشاعۃ السُنّۃ میں ان بزرگوں کانام جنہوں نے ایسے مکاشفات یاایسا عقیدہ اپنا بیان کیا تھا شیطان مجسّم ہرگز نام نہیں رکھا بلکہ مدح کی محل اور مورد میں انکاذکر لائے ہیں مثلًا آپ نے جو میری تائید کے لئے ابن عربی کا قول لکھا اور فتوحات میں سے یہ نقل کیا کہ بعض حدیثیں کشفی طور پر موضوع ظاہر کی جاتی ہیں سچ کہوکہ آپ کی اس وقت کیا نیت تھی کیا یہ نیت تھی کہ نعوذ باللہ ابن عربی