کےؔ دجال ہونے کے قائل تھے۔ اور اگر فرض کے طور پر کوئی فرد باہر رہا ہے تو جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اجماع کامخل نہیں۔ الدجال کے لفظ کی نسبت جس قدر آپ نے بیان کیا ہے وہ سب لغو ہے۔ آپ نہیں جانتے کہ دجال معہود کیلئے الدجال ایک نام مقرر ہوچکا ہے۔ دیکھو صحیح بخاری صفحہ ۱۰۵۵۔ اگر آپ الدجال صحیح بخاری میں بجز دجال معہود کے کسی اور کی نسبت اطلاق ہونا ثابت کردیں تو پانچ روپیہ آپ کی نذر ہوں گے۔ ورنہ اے مولوی صاحب ان فضول ضدوں سے باز آؤ ! ۱ آ پ اگر کچھ حدیث سمجھنے کا ملکہ رکھتے ہیں تو الدجال کے لفظ سے استعمال صحیح بخاری یا صحیح مسلم میں بغیر دجال معہود کے کسی اور میں ثابت کریں۔ورنہ بقول آپ کے ایسی باتیں کرنا اس شخص کا کام ہے جس کو حدیث بلکہ کسی شخص کا کلام سمجھنے سے کوئی تعلق نہ ہو۔ یہ آپ ہی کا فقرہ ہے آپ ناراض نہ ہوں۔ ایں ہمہ سنگ است کہ برسرے من زدی۔
قولہ ۔ آپکا یہ عذر کہ کسی کو(امارات قول دیکھ کر) کسی بات کا قائل ٹھہرانا افترا نہیں اس سے آپکا افترا اور ثابت ہوتا ہے۔
اقول۔ اگر یہی بات ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے فعلی امر کا نام کیوں حدیث رکھ کر لیتے ہیں؟ اور کیوں بخاری نے کہا کہ میں نے تین لاکھ حدیث رسول اللہ کی تقریر کی ؟ ظاہر ہے کہ حدیث بات اور قول کو کہتے ہیں۔ مگر احادیث میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی باتیں نہیں اقوال بھی تو ہیں آپ نے ان افعال کا نام اقوال کیوں رکھا کیا یہ افترا ہے یا نہیں ؟ اگر کہو کہ بطور مسامحت یہ اصطلاح فن حدیث میں جاری ہوگئی۔ تو اسی طرح آپکو سمجھ لینا چاہئے کہ بہت سی باتیں بطور مسامحت انسان کرتا ہے اور ان کو افترا نہیں کہا جاتا۔ اگرکوئی شخص فقط ہاتھ کے اشارہ سے کسی کو کہے کہ بیٹھ جا تو ناقل اس امر کا بسا اوقات کہہ سکتا ہے کہ اس نے مجھے بیٹھنے کیلئے کہا۔ ایک شخص کسی کو کہتا ہے کہ تو شیر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں کرسکتا کہ تو نے افترا کیا۔ اگر یہ شیر ہے تو کہاں شیر کی طرح اس کی کھال ہے اور شیر کی طرح پنجے کہاں ہیں دم کہاں ہے۔ ایسا ہی اپنے اجتہاد کے اتباع کا ہریک کو اختیار ہے جو شخص اجتہاد کے روسے ایک ظنی امر کو یقینی سمجھ لیتا ہے خواہ اس کی نسبت کچھ کہا جائے مگر اس کو مفتری تو نہیں کہا جاتا۔ میرا اور آپ کا بیان اب جلد پبلک کے سامنے آئے گا لوگ خود اندازہ کر لیں گے۔ حدیث کے راویوں کی احتیاطیں صرف اس غرض سے تھیں کہ ان کا قول حدیث شمار کیا جاتا تھا مگر میرا قول تو حدیث نہیں میں تو صاف کہتا ہوں کہ یہ میرا اجتہاد ہے اور میں اجتہادی طور پر کہتا ہوں ضرور آنحضرت نے ابن صیاد کے دجال ہونے پر خوف ظاہر کیا اور میں نے قرآئن موجودہ سے