الاؔ انہ فی بحرالیمن لا بل من قبل المشرق ماھو واومابیدہ الی المشرق یعنی آگاہ ہوکیا تحقیق دجال اس وقت شام کے دریا میں ہے یا یمن کے دریا میں۔ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف سے نکلے گا اور مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ ماھوکے لفظ میں اشارہ کیا کہ بذاتہ ٖ وہ نہ نکلے گا بلکہ اس کا مثیل نکلے گا۔ تمیم داری نصاریٰ کی قوم میں سے تھا اور نصاریٰ ہمیشہ ملک شام کی طرف سفر کرتے ہیں۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تمیم داری کے اس خیال کو رد کردیا کہ وہ شام کے دریا میں کسی جزیرہ میں دجال کو دیکھ آیا ہے اور فرمایا کہ دجال مشرق کی طرف سے نکلے گا جس میں ہندوستان داخل ہے۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھو کہ معمولی تصدیق میں جو بغیر وحی کے ہو نبی سے بھی خطا فی الاجتہاد ممکن ہے جیسا کہ اس خبر کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تصدیق کر لی تھی کہ قیصر روم آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر چڑھائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس تصدیق کی وجہ سے عین موسم گرما میں دور دراز کا سفر بھی اختیار کیا۔ آخر وہ خبر غلط نکلی۔ اور تواریخ صحابہ میں ایسی خبروں کے اور بہت سے نمونے ہیں۔ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچائی گئیں اور آنحضرت نے ان کی فکر کی لیکن آخر وہ صحیح نہ نکلیں۔ ظاہر ہے کہ جس حالت میں قیصر کے حملہ کی خبر سن کر آنجناب شدت گرما میں بلا توقف مع ایک لشکر صحابہ کے روم کی طرف تشریف لے گئے تھے۔ اگر تمیم داری کی خبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے نور فراست کے آگے کسی قدر آثار صداقت رکھتی تو آنجناب ایسے عجیب دجال کے دیکھنے کیلئے ضرور اس جزیرہ کی طرف سفر کرتے تا نہ صرف دجال بلکہ اس کی نادر الشکل جسامت بھی دیکھی جاتی جس حالت میں آنجناب صلی اللہ علیہ و سلم ابن صیاد کے دیکھنے کے لئے گئے تھے تو اس عجیب الخلقت دجال کے مشاہدہ کیلئے کیوں تشریف نہ لے جاتے بلکہ ضرور تھا کہ جاتے۔ یہ مسئلہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا چشم دید ہو کر بکلّی تصفیہ پاجاتا۔ اور یہ بھی آپکو یاد رکھنا چاہئے کہ گرجا والے دجال کی تصدیق اس درجہ پر ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی جیسے ابن صیاد کا دجال ہونا! حضرت عمر وغیرہ صحابہ کی قسموں سے ثابت ہوگیا ہے۔ گرجا والے دجال کی تصدیق قسم کھا کر کس نے کی جس کی تعریف اجماع کو میں نے پیش کیا ہے۔ جو متفرق اقوال کتب اصول فقہ کا خلاصہ ہے۔ کیا کوئی بھی حصہ اس تعریف کا ابن صیاد کے اجماع کی نسبت ثابت نہیں ہوتا؟ بے شک ثابت ہوتا ہے اور آپکا نقض فضول ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اخیر مدت تک اپنے قول سے رجوع ثابت نہیں اور حدیث ابو سعید سے کم سے کم یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک جماعت صحابہ کی ابن صیاد