اور ؔ یہ امر قرآن کے مخالف ہے۔ کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے ۱ یعنی خدا ئے تعالیٰ کھلے کھلے طور پر کسی کو اپنے غیب پر بجز رسولوں کے یعنی بجز ان لوگوں کے جو وحی رسالت یا وحی ولایت کے ساتھ مامور ہوا کرتے ہیں اور منجانب اللہ سمجھے جاتے ہیں مطلع نہیں کرتا مگر دجال نے تو اس جگہ غیب کی پکی پکی خبریں سنائیں* اب سوال یہ ہے کہ وہ رسولوں کی کس قسم میں سے تھا؟ کیا وہ حقیقی طور پر منصب رسالت رکھتا تھا یا نبی تھا یا محدث تھا؟ ممکن نہیں کہ خدائے تعالیٰ کے کلام میں کذب ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو تمیم داری کے قول کی تصدیق کی یہ تصدیق درحقیقت اس شخص اور معین آدمی کی نہیں جو تمیم داری کے ذہن میں تھا بلکہ عام طور پر ان واقعات کی تصدیق ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرمایا کرتے تھے کہ دجال آئے گا اور مدینہ اور مکہ میں نہیں جاسکے گا۔ اور اس جگہ کسی لفظ سے ثابت نہیں ہوتا کہ وحی الٰہی کے رو سے آنحضرت نے تمیم داری کی تصدیق کی۔ بلکہ معمولی طور پر اور بشری عادت کی طرز سے بغیر لحاظ کسی خصوصیت کے چند واقعات کی تصدیق کی تھی اور حدیث کے لفظوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمیم داری کے اس لفظ کی جو دجال ایک جزیرے میں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے تصدیق نہیں کی بلکہ ایک طور سے انکار کیا کیونکہ لفظ حدیث کے یہ ہیں۔
موحدین نام رکھوا کر شرم کرنی چاہئے! جب مخلوق کو(اور مخلوق بھی کافر دجال! یا للعجب!) خدائی طاقتیں اور صفتیں حاصل ہوگئیں تو خالق اور مخلوق میں باب ۲ ا لامتیاز کیا رہا ؟
افسوس یہ خشک مغز لفظ پرست قوم کچھ بھی کلام الٰہی میں غور نہیں کرتی گویا انہیں کلام الٰہی سے کوئی انس و مناسبت ہی نہیں۔ توحید توحید زبان سے پکارتے ہیں اور سخت شرک میں گرفتار ہیں حضرت مسیح ایسے عبد ضعیف کو۔ خالق۔ شافی۔ محی اور حيّ و قیوم اعتقاد کررکھا ہے!!۔ اس پر غضب یہ کہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں کو مبتدع اور مشرک کے سوائے اور کوئی لقب دینا گوارا نہیں کرتے۔ مبارکی ہو اس برگزیدہ الٰہی‘ اس مسیح موعود کو جس نے اصل سرّ توحید کا دنیا پر روشن کیا اور اقسام اقسام اشراک خفیہ سے اہل اسلام کو آگاہ کیا اور قرآن کریم کے نور سے منور ہو کر صفات باری تعالیٰ کے چشمہ کو شرک کے خس و خاشاک سے پاک و صاف فرمایا۔ اے اللہ! اے میرے مولا! مجھے اسکے خادموں میں شامل رکھ کر اس کی برکات سے مستفیض فرما! آمین۔ ایڈیٹر