ہوؔ سکتی ہے کہ اگر کوئی اس جگہ مخالف ہوتا تو ضرور اپنا خلاف ظاہر کرتا اور اس اجماع کا نام اجماع سکوتی ہے اور اس میں یہ ضروری ہے کہ کل کا اتفاق ہے۔ مگر بعض سب کے اتفاق کو ضروری نہیں سمجھتے تا من شذشذ کی حدیث کا مورد باقی رہے اور حدیث باطل نہ ہوجائے اور بعض اس طرف گئے ہیں کہ مجتہدین کاہونا ضروری شرط نہیں بلکہ انعقاد اجماع کیلئے عوام کا قول کافی ہے جیسا کہ باقلانی کا یہی مذہب ہے اور بعض کے نزدیک اجماع کیلئے یہ ضروری شرط ہے کہ اجماع صحابہ کا ہو نہ کسی اور کا۔ اور بعض کے نزدیک اجماع وہی ہے جو عترت یعنی اہل قرابت رسول اللہ کا اجماع ہو۔ اور بعض کے نزدیک یہ لازم شرط ہے کہ اجماع کرنے والے خاص مدینہ کے رہنے والے ہوں۔ اور بعض کے نزدیک تحقیق اجماع کیلئے یہ شرط ہے کہ اجماع کا زمانہ گذر جائے۔ چنانچہ شافعی کے نزدیک یہ شرط ضروری ہے وہ کہتا ہے کہ اجماع تب متحقق ہوگا کہ اجماع کے زمانہ کی صف لپیٹی جائے اور وہ تمام لوگ مر جائیں جنہوں نے اجماع کیا تھا اور جب تک وہ سب نہ مریں تب تک اجماع صحیح نہیں ٹھہر سکتا کیونکہ ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے قول سے رجوع کرے اور یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ کسی نے اپنے قول سے رجوع تو نہیں کیا اور نقل اجماع پر بھی اجماع چاہئے۔ یعنی جو لوگ کسی امر کے بارہ میں اجماع کے قائل ہیں ان میں بھی اجماع ہو اور اجماع لاحق مع اختلاف سابق جائز ہے یعنی اگر ایک امر پہلے لوگوں نے اجماع نہ کیا اور پھر کسی دوسرے زمانہ میں اجماع ہوگیا ہو تو وہ اجماع بھی معتبر ہے اور بہتر اجماع میں یہ ہے کہ ہر زمانہ اس کا سلسلہ چلا جائے اور بعض معتزلہ کا قول ہے کہ اتفاق اکثر سے بھی اجماع ہوسکتا ہے بدلیل من شذشذ فی النار اور بعض نے کہا ہے کہ اجماع کوئی چیز نہیں اور اپنی جمیع شرائط کے ساتھ متحقق نہیں ہوسکتا۔ دیکھو کتب اصول فقہ ائمہ اربعہ۔
اب اس تمام تقریر سے ظاہر ہے کہ علماء کا اس تعریف اجماع پر بھی اجماع نہیں اور انکار اور تسلیم کے دونوں دروازے کھلے ہوئے ہیں لہٰذا میں نے جب بعض اقوال کے ابن صیاد کے دجال معہود ہونے پر بلاشبہ اجماع سکوتی کا ثبوت دے دیا ہے۔ ابو سعید نے ہرگز ہرگز ابن صیاد کے دجال ہونے سے انکار نہیں کیا ایک امر کا کسی پر مشتبہ ہونا اور چیز ہے تمیم داری کا بھی انکار ثابت نہیں کیونکہ تمیم داری نے گرجا والے دجال کی نسبت اپنا یقین ظاہر نہیں کیا صرف ایک خبر سنادی اور بمجرد خبر سنانے کے انکار لازم نہیں آتا اور وہ خبر جرح سے خالی بھی نہیں کیونکہ تمیم داری کہتا ہے کہ اس دجال نے غیب کی باتیں اور آئندہ میں ظاہر ہونے والی پیشگوئیاں کھلے کھلے طور پر سنائیں