ھوؔ التکلم منھم بمایوجب الاتفاق بان یقولوا اجمعنا علی ھذا ان کان ذلک الشیء من باب القول اوشروعھم فی الفعل ان کان ذالک الشیء من باب الفعل والنوع الثانی منہ رخصۃ وھو ان یتکلم اویفعل البعض من المجمعین دون البعض ای یتفق بعضھم علی قول او فعل ویسکت الباقون منھم ولایردون علیھم الی ثلثۃ ایام اوالی مدۃ یعلم عادۃ انہ لوکان ھناک مخالف لاظھر الخلاف ویسمی ھذا اجماعا سکوتیا و لابد فیہ من اتفاق الکل خلافا للبعض وتمسکا بحدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم و ذھب بعضھم الی کفایۃ قول العوام فی انعقاد الاجماع کالباقلانی و کون المجمعین من الصحابۃ اومن العترۃ لا یشترط وقال بعضھم لااجماع الاللصحابۃ و بعضھم حصر الاجماع فی اھل قرابۃ رسول اللہ و عند البعض کونھم من اھل المدینۃ یعنی مدینۃ رسول اللہ شرط ضروری و عند بعضھم انقراض عصرھم شرط لتحقق الاجماع وقال الشافعیؒ یشترط فیہ انقراض العصر وفوت جمیع المجتھدین فلایکون اجماعھم حجۃ مالم یموتوا لان الرجوع قبلہ محتمل ومع الاحتمال لایثبت الاستقراء ولابدلنقل الاجماع من الاجماع والاجماع اللاحق جائز مع الاختلاف السابق والاولی فی الاجماع ان یبقی فی کل عصر وقال بعض المعتزلۃ ینعقد الاجماع باتفاق الاکثر بدلیل من شذشذ فی النار۔ قال بعضھم ان الاجماع لیس بشیء ولایتحقق لجمع شرائط یعنی اجماع اس اتفاق کا نام ہے جو امت محمدیہ کے مجتہدین صالحین میں زمانہ واحد میں پیدا ہو اور بہتر تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں پایا جائے اور جس امر پر اتفاق ہو برابر ہے کہ وہ امر قولی ہویافعلی۔ اور اجماع کی دو نوع ہیں ایک وہ ہے جس کو عزیمت کہتے ہیں اور عزیمت اس بات کانام ہے کہ اجماع کرنیوالے صریح تکلم سے اپنے اجماع کا اقرار کریں کہ ہم اس قول یافعل پر متفق ہوگئے۔ لیکن فعل میں شرط ہے کہ اس فعل کا کرنا بھی وہ شروع کردیں۔ دوسری نوع اجماع کی وہ ہے جس کو رخصت کہتے ہیں اور وہ اس بات کانام ہے کہ اگر اجماع کسی قول پر ہے تو بعض اپنے اتفاق کو زبان سے ظاہر کریں اور بعض چپ رہیں اور اگر اجماع کسی فعل پر ہے تو بعض اسی فعل کا کرنا شروع کردیں اور بعض فعلی مخالفت سے دستکش رہیں۔ گو اس فعل کو بھی نہ کریں اور تین دن تک اپنی مخالفت قول یا فعل سے ظاہر نہ کریں یا اس مدت تک مخالفت ظاہر نہ کریں جو عادتاً اس بات کے سمجھنے کیلئے دلیل