کو ؔ یاد تھیں وہ باوجود اپنی صحت اسناد کے صحیح بخاری کی حدیثوں سے کچھ تعارض رکھتی ہونگی جبھی تو بخاری جیسے حریص اشاعت سنت رسول نے ان کو کتاب میں درج نہیں کیا۔ اور نہ کسی دوسری کتاب میں ان کو لکھا ورنہ بخاری جیسے عاشق قول رسول پر ایک ناقابل دفع اعتراض ہوگا کہ اس نے رسول اللہ کی حدیثوں کو پا کر کیوں ضائع کیا! کیا اس کی شان سے بعید نہیں کہ سولہ برس مصیبت اٹھا کر ایک لاکھ حدیث رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی جمع کی اور پھر ایک نکمے خیال سے کہ کتاب میں طول ہوتا ہے اس خزانہ کو ضائع کردے؟
چہ عقل است صد سال اندوختن
پس انگاہ دریک دمے سوختن
خداداد علم اور حکمت کو ضائع کرنا بالاتفاق معصیت کبیرہ ہے پھر کیونکر یہ حرکت بے جا ایسے امام سے ممکن ہے! سواگرچہ کسی مخفی وجہ کی نسبت سے امام بخاری نے ظاہر نہیں کیا اور یا ظاہر کیا اور محفوظ نہیں رہا لیکن بہرحال یہی سبب ہے اور یہی عذر شرعی ہے جس کے تجویز کرنے سے امام محمد اسماعیل کی غم خواری دینی کا دامن کسل اور لاپروائی کی آلائش سے پاک رہ سکتا ہے۔
قولہ۔ آپ نے اجماع کے بارے میں کہ اجماع کس کو کہتے ہیں کچھ جواب نہ دیا جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ علمی سوالات کو کچھ سمجھ نہیں سکتے۔ اجماع کی تعریف یہ ہے کہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین جن سے ایک شخص بھی متفرد و مخالف نہ ہو ایک حکم شرعی پر اتفاق کر لیں اگر ایک مجتہد بھی مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہیں ہوگا۔
اقول۔ میرے سیدھے سیدھے بیان میں ماحصل اجماع کی تعریف کا موجود ہے۔ ہاں میں نے اصولیوں کی مصنوعہ مخترعہ طرز پر جو دقت سے خالی نہیں اس بیان کو ظاہر نہیں کیا تا عوام الناس فہم سخن سے بے نصیب نہ رہیں۔ لیکن آپ نے اصطلاحی طور پر اجماع کی تعریف کرنے کا دعویٰ کرکے پھر اس میں خیانت کی ہے اور پورے طور پر اسکا بیان نہ کیا جس سے آپکے دل میں یہ اندیشہ ہوگا کہ جن شرائط کو اصول فقہ والوں نے اجماع کی تحقیق کیلئے ٹھہرایا ہے ان تمام شرائط کے لحاظ سے آپکے مسلمہ اجماعوں میں سے کوئی اجماع صحیح ٹھہر نہیں سکتا۔ اور یا یہ مطلب ہوگا کہ جو امور اس میں میرے مفید مطلب ہوں ان کو پوشیدہ رکھا جاوے اور وہ اجماع معہ اس کی شرائط کے اس طرح پر بیان کیا گیا ہے الاجماع اتفاق مجتھدین صالحین من امۃ محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم فی عصرٍ واحدٍ والا ولی ان یکون فی کل عصر علی امرقولی اوفعلی ورکنہ نوعان عزیمۃ و