چاہیےؔ ؟ ۱ اور خدا جانے کس قدر اس کو ترک صلوٰۃ کی حدیث کی صحت پر پختہ یقین تھا کہ باوجودیکہ انتیس سال تک یا کچھ اس سے زیادہ اس حدیث کی مصدق کوئی آیت اس کو قرآن کریم میں نہ ملی تاہم اس نے تلاش اور طلب سے ہمت نہ ہاری۔ یہاں تک کہ آیت ۲ اسکو مل گئی یہ طلب اور تلاش بجز اسکے اور کس غرض کیلئے تھی کہ ایک طرف تو شیخ اسلم طوسی کو ترک صلوٰۃ کی حدیث میں اس کی صحت کے بارہ میں کچھ کلام نہ تھا اور دوسری طرف عبارت اس کی قرآن کریم کی ظاہر تعلیم سے مخالف معلوم ہوتی تھی اور اس بات کو ایک ادنیٰ فہم والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اگر شیخ موصوف کو حدیث اور ظاہر قرآن میں کچھ مخالفت دکھائی نہیں دیتی تھی تو پھر تیس ۳۰سال تک کس غوطہ میں رہا! اور کونسی چیز گم ہوگئی تھی جس کو وہ تلاش کرتا رہا؟ آخر یہی تو سبب تھا کہ وہ اس حدیث کے موافق کوئی آیت نہ پاتا تھا اور اسی خیال سے وہ قرآن کی آیات کو اس حدیث کے مخالف خیال کرتا تھا۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ شیخ مذکور کی کلام میں قرآن کے معیار ٹھہرانے کا نام و نشان نہیں‘‘۔ مگر آپ کی سمجھ پر نہ خود میں بلکہ ہریک عاقل تعجب کرے گا کہ اگر شیخ کی رائے میں قرآن ایسی حدیثوں کی تصدیق کیلئے کہ بظاہر مخالف قرآن معلوم ہوں معیار نہیں تھا تو پھر شیخ نے تیس ۳۰سال تک تصدیق کیلئے کیوں ٹکریں ماریں؟ تیس ۳۰سال کا عرصہ کچھ تھوڑا نہیں ہوتا ایک جو ان اس عرصہ میں بڈھا ہوجاتا ہے۔ کیا کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ بغیر ارادہ کسی بھاری مرحلہ کے طے کرنے اور بغیر قصد نجات کے ایک سخت مشکل سے یوں ہی کوئی ایک زائد اطمینان کیلئے اس قدر عرصہ دراز عمر عزیز کا ضائع کرے۔ پھر آپ دریافت کرتے ہیں کہ کیا شیخ محمد اسلم نے بجز اس حدیث ترک صلوٰۃ کے کسی اور حدیث کو بھی قرآن پر عرض کیا؟ یہ کیسا پر خبط سوال ہے! کیا عدم علم سے عدم شے لازم آتا ہے؟ پس ممکن ہے کہ عرض کیا ہو اور ہمیں معلوم نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ مشکل اور حدیثوں میں انہیں پیش نہ آئی ہو۔ اور ان کی نظر میں کوئی اور حدیث ایسے طور سے مخالف قرآن نہ ہو جس سے قرآن کی کامل اور غیر مبدل ہدایتوں کو ضرر پہنچ سکے اور اگر یہ کہو کہ اس تیس۳۰ سال کے عرصہ تک یعنی جب تک کہ آیت نہیں ملی تھی حدیث ترک صلوٰۃ کی صحت کی نسبت شیخ کا کیا اعتقاد تھا تو جواب یہ ہے کہ شیخ اس میں حسب قانون روایت صحت کے آثار صحت پاتا تھا لیکن بوجہ مخالفت ظاہری قرآن حیرت اور سرگشتگی میں تھا اور کوئی رائے استقلال کے ساتھ قائم نہیں کرسکتا تھا اور آیت کے مل جانے کا زیادہ تر امیدوار تھا۔ پھر میں کہتا ہوں کہ آپ ضد چھوڑ دیں* اور خداتعالیٰ